ساعتِ ہجر ہے بھی ہے کتنی بھلی
ایک لمحے میں ساری عمر ڈھلی
حاصلِ اعتبار تو دیکھو
اک تبسم پہ مطمئن ہے کلی
انتظارِ سحر میں تھے دونوں
رقص کرتی ہے رات بھر شبنم
تب کہیں آنکھ کھولتی ہے کلی
دن تو گزرا ہے حبس میں شاعرؔ
رات بھی کیا ہوا چلی نہ چلی
شاعر لکھنوی
No comments:
Post a Comment