Thursday, 8 December 2016

دل میں ہیں زخم تمنا کتنے

دل میں ہیں زخمِ تمنا کتنے
پھول میں رنگ ہیں یکجا کتنے
ایک موہوم سی شہرت کے لیے
لوگ ہو جاتے ہیں رسوا کتنے
اک نیا روز بدلتی ہے لباس
پیراہن رکھتی ہے دنیا کتنے
ہم نے اک بزم سجا رکھی ہے
ہم کو دیکھو تو ہیں تنہا کتنے
دوست کہنے کو تو سب ہیں شاعرؔ
درد سمجھے ہیں ہمارا کتنے

شاعر لکھنوی

No comments:

Post a Comment