دل میں ہیں زخمِ تمنا کتنے
پھول میں رنگ ہیں یکجا کتنے
ایک موہوم سی شہرت کے لیے
لوگ ہو جاتے ہیں رسوا کتنے
اک نیا روز بدلتی ہے لباس
ہم نے اک بزم سجا رکھی ہے
ہم کو دیکھو تو ہیں تنہا کتنے
دوست کہنے کو تو سب ہیں شاعرؔ
درد سمجھے ہیں ہمارا کتنے
شاعر لکھنوی
No comments:
Post a Comment