دل میں احساسِ تمنا گم ہے
ریت ہی ریت ہے دریا گم ہے
دل ہے اس ایک مسافر کی طرح
جو بھرے شہر میں تنہا گم ہے
پہلے صحرا میں تھے گم دیوانے
آرزو بھی ہے عجب ایک طلسم
جس طرف جائیے رستا گم ہے
میری آواز میں تُو ہے تنہا
تیری آواز میں دنیا گم ہے
لوگ شاعؔر کا پتہ پوچھتے ہیں
کس سے کہیے کہ وہ کب کا گم ہے
شاعر لکھنوی
No comments:
Post a Comment