Wednesday, 7 December 2016

ہیں یوں مست آنکھوں میں ڈورے گلابی

ہیں یوں مست آنکھوں میں ڈورے گلابی
شرابی کے پہلو میں جیسے شرابی
وہ آنکھیں گلابی، اور ایسی گلابی
کہ جس رُت کو دیکھیں بنا دیں شرابی
جوانی میں اس طرح ملتی ہیں نظریں
شرابی سے ملتا ہے جیسے شرابی
نچوڑو کوئی بڑھ کے دامن شفق کا
فلک پر یہ کس نے گِرا دی گلابی
گھنی مست پلکوں کے سائے میں نظریں
بہکتے ہوئے مۓ کدوں میں شرابی
ذرا مجھ سے بچتے رہو پارساؤ
کہیں تم کو چھُو لے نہ میری خرابی
نذیرؔ اپنی دنیا تو اب تک یہی ہے
شراب آفتابی، فضا ماہتابی

نذیر بنارسی

No comments:

Post a Comment