ہیں یوں مست آنکھوں میں ڈورے گلابی
شرابی کے پہلو میں جیسے شرابی
وہ آنکھیں گلابی، اور ایسی گلابی
کہ جس رُت کو دیکھیں بنا دیں شرابی
جوانی میں اس طرح ملتی ہیں نظریں
نچوڑو کوئی بڑھ کے دامن شفق کا
فلک پر یہ کس نے گِرا دی گلابی
گھنی مست پلکوں کے سائے میں نظریں
بہکتے ہوئے مۓ کدوں میں شرابی
ذرا مجھ سے بچتے رہو پارساؤ
کہیں تم کو چھُو لے نہ میری خرابی
نذیرؔ اپنی دنیا تو اب تک یہی ہے
شراب آفتابی، فضا ماہتابی
نذیر بنارسی
No comments:
Post a Comment