نقد تو چل چکی، ادھار چلے
ورنہ اب تیرے بادہ خوار چلے
وہ برہمن ہو یا کہ شیخِ حرم
اے خدا! سب کا کاروبار چلے
تیری دنیا میں بھی سکوں نہ ملا
موت کا انتظار کر نہ سکے
زندگی کے گنہ گار چلے
سب کے سب سانس لے سکیں جس میں
وہ ہوا بھی تو ایک بار چلے
اس کے جینے کی داستاں نہ پوچھ
سانس بھی لے کے جو ادھار چلے
میں تو آیا ہوں غم غلط کرنے
آپ کیسے بزرگوار چلے؟
آپ کیجۓ نذیرؔ سیرِ زمیں
ہم تو اب آسماں کے پار چلے
نذیر بنارسی
No comments:
Post a Comment