Wednesday, 7 December 2016

آسماں سے اتارا گیا

آسماں سے اتارا گیا
زندگی دے کے مارا گیا
مڑ کے کیسے نہ ہم دیکھتے
نام لے کر پکارا گیا
ہم تو پہنچے وہاں بعد کو
ہوش پہلے ہمارا گیا
اتنا ہی ہم بگڑتے گئے
ہم کو جتنا سنوارا گیا
ہم کو ساحل کا دے کر فریب
موت کے گھاٹ اتارا گیا
حق شناسوں کے ہوتے ہوئے
نقشِ باطل اتارا گیا
چھین کر لوگ پیتے رہے
میں شرافت میں مارا گیا
عشق جس نے کیا سوچ لے
وہ تو بے موت مارا گیا
میری محفل سے وہ کیا گئے 
ساتھ میں دل ہمارا گیا
موت سے بھی جو نہ مر سکا
اس کو نظروں سے مارا گیا
بزمِ اغیار میں بھی نذیرؔ
نام سن کر تمہارا گیا

نذیر بنارسی

No comments:

Post a Comment