آسماں سے اتارا گیا
زندگی دے کے مارا گیا
مڑ کے کیسے نہ ہم دیکھتے
نام لے کر پکارا گیا
ہم تو پہنچے وہاں بعد کو
اتنا ہی ہم بگڑتے گئے
ہم کو جتنا سنوارا گیا
ہم کو ساحل کا دے کر فریب
موت کے گھاٹ اتارا گیا
حق شناسوں کے ہوتے ہوئے
نقشِ باطل اتارا گیا
چھین کر لوگ پیتے رہے
میں شرافت میں مارا گیا
عشق جس نے کیا سوچ لے
وہ تو بے موت مارا گیا
میری محفل سے وہ کیا گئے
ساتھ میں دل ہمارا گیا
موت سے بھی جو نہ مر سکا
اس کو نظروں سے مارا گیا
بزمِ اغیار میں بھی نذیرؔ
نام سن کر تمہارا گیا
نذیر بنارسی
No comments:
Post a Comment