ایک جھونکا اس طرح زنجیرِ در کھڑکا گیا
میں یہ سمجھا بھولنے والے کو میں یاد آ گیا
اے زمیں! تجھ کو محبت سے بسانے کیلئے
آسمانوں کی بلندی سے مجھے پھینکا گیا
عمر بھی کی بات بگڑی اک ذرا سی بات میں
آئینہ دکھلانے آئے تھے پریشانی کے دن
تھا مرا چہرہ مگر مجھ سے نہ پہچانا گیا
اس طرف جاتے ہوئے اب دل دہلتا ہے نذیرؔ
زندگی میں جس طرف سے بارہا آیا گیا
نذیر بنارسی
No comments:
Post a Comment