Showing posts with label رفعت سلطان. Show all posts
Showing posts with label رفعت سلطان. Show all posts

Monday, 21 June 2021

نا آشنائے درد نہیں بے وفا نہیں

 نا آشنائے درد نہیں، بے وفا نہیں 

اک  آشنا کہ ہائے مِرا آشنا  نہیں

لاؤں جو دل کی بات زباں پر تو کس لیے 

میں جانتا نہیں ہوں کہ تُو جانتا نہیں 

جلتا رہا ہوں زیست کے دوزخ میں عمر بھر

یہ اور بات ہے مِری کوئی خطا نہیں 

Sunday, 6 June 2021

بہاروں کو چمن یاد آ گیا ہے

 بہاروں کو چمن یاد آ گیا ہے

مجھے وہ گلبدن یاد آ گیا ہے

لچکتی شاخ نے جب سر اٹھایا

کسی کا بانکپن یاد آ گیا ہے

مِری خاموشیوں پر ہنسنے والو

مجھے وہ کم سخن یاد آ گیا ہے

Friday, 4 June 2021

نادان دل فریب محبت نہ کھا کبھی

 نادان دل فریب محبت نہ کھا کبھی

دنیا میں کس نے کی ہے کسی سے وفا کبھی

ایسا بھی اتفاق جنوں میں ہوا کبھی

میں ہنستے ہنستے سوچ کے کچھ رو پڑا کبھی

بیٹھا ہوں اس امید پہ اک رہگزار پر

لے آئے اس طرف تجھے شاید خدا کبھی

Thursday, 3 June 2021

ہوئے جب سے محبت آشنا ہم

 ہوئے جب سے محبت آشنا ہم

نہیں لاتے زباں پر مُدعا ہم

سعادت ہے جو بن جائیں جہاں میں

کسی مجبور دل کا آسرا ہم

چلائے تیر چھپ چھپ کر جنہوں نے

کریں گے ان کے حق میں بھی دعا ہم

Saturday, 20 March 2021

جب نشاط الم نہیں ہوتا

 جب نشاطِ الم نہیں ہوتا

جامِ جَم جامِ جَم نہیں ہوتا

جانےکیوں تیری بےرخی سےبھی

دل کو اب کوئی غم نہیں ہوتا

آ گیا ہوں تِرے حضور، مگر

فاصلہ پھر بھی کم نہیں ہوتا

Saturday, 30 January 2021

اگر قدم تیرے میکش کا لڑکھڑا جائے

 اگر قدم تیرے میکش کا لڑکھڑا جائے

تو شمعِ مےکدہ کی لو بھی تھرتھرا جائے

اب اس مقام پہ لائی ہے زندگی مجھ کو

کہ چاہتا ہوں تجھے بھی بھُلا دیا جائے

مجھے بھی یوں تو بڑی آرزو ہے جینے کی

مگر سوال یہ ہے کس طرح جیا جائے؟