نا آشنائے درد نہیں، بے وفا نہیں
اک آشنا کہ ہائے مِرا آشنا نہیں
لاؤں جو دل کی بات زباں پر تو کس لیے
میں جانتا نہیں ہوں کہ تُو جانتا نہیں
جلتا رہا ہوں زیست کے دوزخ میں عمر بھر
یہ اور بات ہے مِری کوئی خطا نہیں
نا آشنائے درد نہیں، بے وفا نہیں
اک آشنا کہ ہائے مِرا آشنا نہیں
لاؤں جو دل کی بات زباں پر تو کس لیے
میں جانتا نہیں ہوں کہ تُو جانتا نہیں
جلتا رہا ہوں زیست کے دوزخ میں عمر بھر
یہ اور بات ہے مِری کوئی خطا نہیں
بہاروں کو چمن یاد آ گیا ہے
مجھے وہ گلبدن یاد آ گیا ہے
لچکتی شاخ نے جب سر اٹھایا
کسی کا بانکپن یاد آ گیا ہے
مِری خاموشیوں پر ہنسنے والو
مجھے وہ کم سخن یاد آ گیا ہے
نادان دل فریب محبت نہ کھا کبھی
دنیا میں کس نے کی ہے کسی سے وفا کبھی
ایسا بھی اتفاق جنوں میں ہوا کبھی
میں ہنستے ہنستے سوچ کے کچھ رو پڑا کبھی
بیٹھا ہوں اس امید پہ اک رہگزار پر
لے آئے اس طرف تجھے شاید خدا کبھی
ہوئے جب سے محبت آشنا ہم
نہیں لاتے زباں پر مُدعا ہم
سعادت ہے جو بن جائیں جہاں میں
کسی مجبور دل کا آسرا ہم
چلائے تیر چھپ چھپ کر جنہوں نے
کریں گے ان کے حق میں بھی دعا ہم
جب نشاطِ الم نہیں ہوتا
جامِ جَم جامِ جَم نہیں ہوتا
جانےکیوں تیری بےرخی سےبھی
دل کو اب کوئی غم نہیں ہوتا
آ گیا ہوں تِرے حضور، مگر
فاصلہ پھر بھی کم نہیں ہوتا
اگر قدم تیرے میکش کا لڑکھڑا جائے
تو شمعِ مےکدہ کی لو بھی تھرتھرا جائے
اب اس مقام پہ لائی ہے زندگی مجھ کو
کہ چاہتا ہوں تجھے بھی بھُلا دیا جائے
مجھے بھی یوں تو بڑی آرزو ہے جینے کی
مگر سوال یہ ہے کس طرح جیا جائے؟