Monday, 21 June 2021

نا آشنائے درد نہیں بے وفا نہیں

 نا آشنائے درد نہیں، بے وفا نہیں 

اک  آشنا کہ ہائے مِرا آشنا  نہیں

لاؤں جو دل کی بات زباں پر تو کس لیے 

میں جانتا نہیں ہوں کہ تُو جانتا نہیں 

جلتا رہا ہوں زیست کے دوزخ میں عمر بھر

یہ اور بات ہے مِری کوئی خطا نہیں 

اک ساغرِ حیات کی خاطر تمام عمر

وہ کون سا ہے زہر جو میں نے پیا نہیں

شاید درودِ فصلِ بہاراں قریب ہے

اہلِ جنوں نے چاکِ گریباں سیا نہیں 

تیرے حریمِ ناز کی اس کو خبر ہو کیا

جو سرحدِ خیال سے آگے گیا نہیں 

رفعت جہاں میں رسمِ وفا ہی نہیں رہی

ان سے تو کیا کسی سے بھی مجھ کو گِلا نہیں


رفعت سلطان

No comments:

Post a Comment