Monday, 21 June 2021

کی احتیاط دل نے بہت پر کہا گیا

 کی احتیاط دل نے بہت پر کہا گیا

چھوڑی جو ان کی راہ تو در در کہا گیا

ساقی نے میرے نام پہ ساغر پٹک دیا

تشنہ لبی کو میرا مقدر کہا گیا

ہر چشمِ التفات کے حسن نگاہ کو

آئینۂ خلوص کا جوہر کہا گیا

احساسِ حسنِ ظرف سے ملتی ہے آبرو

پانی کی ایک بوند کو گوہر کہا گیا

اے صبح کی کرن یہ خیالاتِ زندگی

وہ بات کون تھی جسے گھر گھر کہا گیا

پروازیوں کی شرحِ نظر تک نہ کر سکی

لیکن خیالِ طائر بے پر کہا گیا

نیرنگیوں کی بات ہے اے عارضِ جمال

شعلہ دہک اٹھا تو گلِ تر کہا گیا

جنبشِ سکوں‌ نواز مزاجی کو چھوڑئیے

خاموشئ حیات کو اکثر کہا گیا


جنبش خیرآبادی

No comments:

Post a Comment