Tuesday, 22 June 2021

آرزو جینے کی تھی امکان جینے کا نہ تھا

 آرزو جینے کی تھی امکان جینے کا نہ تھا

خواہشیں تھیں صف بہ صف سامان جینے کا نہ تھا

قرض تھا تیرا سو جیتے جی تجھے لوٹا دیا

زندگی ورنہ مجھے ارمان جینے کا نہ تھا

دوستی زہراب سے کی رنج و غم سے کی نباہ

ورنہ یہ ماحول میری جان جینے کا نہ تھا

زندگی تو چھوڑ میرا ساتھ میں بے زار ہوں

میرا تیرا تو کوئی پیمان جینے کا نہ تھا

میں نے ہنسنے کی اذیت جھیل لی رویا نہیں

یہ سلیقہ بھی کوئی آسان جینے کا نہ تھا

کچھ تِری رحمت پہ تکیہ کچھ گناہوں کی کشش

ورنہ اس دنیا میں تو انسان جینے کا نہ تھا

ذہن کی آوارگی منت کشِ دنیا نہ تھی

زندگی کا بھی مجیبی دھیان جینے کا نہ تھا


صدیق مجیبی

No comments:

Post a Comment