مدتوں دیکھ لیا چپ رہ کے
آؤ کچھ ان سے بھی دیکھیں کہہ کے
اس تغافل پہ بھی اللہ اللہ
یاد آتا ہے کوئی رہ رہ کے
ہے روانی کی بھی حد اک آخر
موج جائے گی کہاں تک بہہ کے
مدتوں دیکھ لیا چپ رہ کے
آؤ کچھ ان سے بھی دیکھیں کہہ کے
اس تغافل پہ بھی اللہ اللہ
یاد آتا ہے کوئی رہ رہ کے
ہے روانی کی بھی حد اک آخر
موج جائے گی کہاں تک بہہ کے
مرہمِ زخمِ جگر ہو جائے
ایک ایسی بھی نظر ہو جائے
اک اشارہ بھی اگر ہو جائے
اس شبِ غم کی سحر ہو جائے
صبح یہ فکر کہ ہو جائے شام
شام کو یہ کہ سحر ہو جائے
ایماں نواز گردشِ پیمانہ ہو گئی
ہم سے بھی ایک لغزشِ مستانہ ہو گئی
کوئی تو بات شمع کے جلنے میں تھی ضرور
جس پر نثار ہستیٔ پروانہ ہو گئی
صد شکر آج ہو تو گئی ان سے گفتگو
یہ اور بات ہے کہ حریفانہ ہو گئی
وہ جسے دیدہ وری کہتے ہیں
ہم اسے بے بصری کہتے ہیں
نام اس کا ہے اگر با خبری
پھر کسے بے خبری کہتے ہیں
کیا اسی کار نظر بندی کو
حسن کی جلوہ گری کہتے ہیں
غم نہیں یہ کہ انتظار کیا
بلکہ یہ ہے کہ اعتبار کیا
بے تعلق ہی ہم تو اچھے تھے
اس تعلق نے اور خوار کیا
سچ تو یہ ہے کہ دیدہ و دل کو
مفت ہی میں گناہ گار کیا