Showing posts with label عبدالمجید حیرت. Show all posts
Showing posts with label عبدالمجید حیرت. Show all posts

Friday, 23 September 2022

مدتوں دیکھ لیا چپ رہ کے

 مدتوں دیکھ لیا چپ رہ کے

آؤ کچھ ان سے بھی دیکھیں کہہ کے

اس تغافل پہ بھی اللہ اللہ

یاد آتا ہے کوئی رہ رہ کے

ہے روانی کی بھی حد اک آخر

موج جائے گی کہاں تک بہہ کے

Friday, 16 September 2022

مرہم زخم جگر ہو جائے

 مرہمِ زخمِ جگر ہو جائے

ایک ایسی بھی نظر ہو جائے

اک اشارہ بھی اگر ہو جائے

اس شبِ غم کی سحر ہو جائے

صبح یہ فکر کہ ہو جائے شام

شام کو یہ کہ سحر ہو جائے

Wednesday, 14 September 2022

ایماں نواز گردش پیمانہ ہو گئی

 ایماں نواز گردشِ پیمانہ ہو گئی

ہم سے بھی ایک لغزشِ مستانہ ہو گئی

کوئی تو بات شمع کے جلنے میں تھی ضرور

جس پر نثار ہستیٔ پروانہ ہو گئی

صد شکر آج ہو تو گئی ان سے گفتگو

یہ اور بات ہے کہ حریفانہ ہو گئی

Tuesday, 13 September 2022

وہ جسے دیدہ وری کہتے ہیں

 وہ جسے دیدہ وری کہتے ہیں

ہم اسے بے بصری کہتے ہیں

نام اس کا ہے اگر با خبری

پھر کسے بے خبری کہتے ہیں

کیا اسی کار‌ نظر بندی کو

حسن کی جلوہ گری کہتے ہیں

Tuesday, 30 March 2021

غم نہیں یہ کہ انتظار کیا

 غم نہیں یہ کہ انتظار کیا

بلکہ یہ ہے کہ اعتبار کیا

بے تعلق ہی ہم تو اچھے تھے

اس تعلق نے اور خوار کیا

سچ تو یہ ہے کہ دیدہ و دل کو

مفت ہی میں گناہ گار کیا