Wednesday, 14 September 2022

ایماں نواز گردش پیمانہ ہو گئی

 ایماں نواز گردشِ پیمانہ ہو گئی

ہم سے بھی ایک لغزشِ مستانہ ہو گئی

کوئی تو بات شمع کے جلنے میں تھی ضرور

جس پر نثار ہستیٔ پروانہ ہو گئی

صد شکر آج ہو تو گئی ان سے گفتگو

یہ اور بات ہے کہ حریفانہ ہو گئی

اللہ رے، اشکبارئ شمعِ شبِ فراق

جو صبح ہوتے ہوتے اک افسانہ ہو گئی

حیرت کے غمکدے میں خوشی کا گزر کہاں

آپ آ گئے تو رونقِ کاشانہ ہو گئی


عبدالمجید حیرت

No comments:

Post a Comment