Wednesday, 14 September 2022

کج کلاہوں کی طرفداری نہیں کر سکتے

 کج کلاہوں کی طرفداری نہیں کر سکتے

میرے الفاظ اداکاری نہیں کر سکتے

فرق ہوتا ہے ہوس اور محبت میں میاں

ہم برابر کی سند جاری نہیں کر سکتے

ہم تو بازار سے کترا کے گزر جاتے ہیں

ہم تہی دست، خریداری نہیں کر سکتے

جب کوئی مدھ بھری آنکھوں سے پلائے واعظ

کیا ہم اس وقت بھی میخواری نہیں کر سکتے

لاکھ یہ گردِ مہ و سال سے دُھندلا جائیں

آئینے ہم سے ریاکاری نہیں کر سکتے

چھوڑ کر دنیا، تجھے ساتھ لیے پھرتے ہیں

پھر بھی شکوہ ہے کہ ہم یاری نہیں کر سکتے

قاتلوں کی جو کریں پشت پناہی سلطان

قاتلوں کی وہ گرفتاری نہیں کر سکتے


سلطان محمود

No comments:

Post a Comment