کج کلاہوں کی طرفداری نہیں کر سکتے
میرے الفاظ اداکاری نہیں کر سکتے
فرق ہوتا ہے ہوس اور محبت میں میاں
ہم برابر کی سند جاری نہیں کر سکتے
ہم تو بازار سے کترا کے گزر جاتے ہیں
ہم تہی دست، خریداری نہیں کر سکتے
جب کوئی مدھ بھری آنکھوں سے پلائے واعظ
کیا ہم اس وقت بھی میخواری نہیں کر سکتے
لاکھ یہ گردِ مہ و سال سے دُھندلا جائیں
آئینے ہم سے ریاکاری نہیں کر سکتے
چھوڑ کر دنیا، تجھے ساتھ لیے پھرتے ہیں
پھر بھی شکوہ ہے کہ ہم یاری نہیں کر سکتے
قاتلوں کی جو کریں پشت پناہی سلطان
قاتلوں کی وہ گرفتاری نہیں کر سکتے
سلطان محمود
No comments:
Post a Comment