تاریکی نہیں دن کے اجالے بھی سیہ ہیں
مسکان سیہ ہو گئی، نالے بھی سیہ ہیں
گہنائے ہوئے چاند کی کرنیں ہیں سیہ پوش
خورشید تِرے سارے حوالے بھی سیہ ہیں
اس جادۂ منزل کی سیاہی سے پریشاں
پیروں میں مچلتے ہوئے چھالے بھی سیہ ہیں
تاریکی نہیں دن کے اجالے بھی سیہ ہیں
مسکان سیہ ہو گئی، نالے بھی سیہ ہیں
گہنائے ہوئے چاند کی کرنیں ہیں سیہ پوش
خورشید تِرے سارے حوالے بھی سیہ ہیں
اس جادۂ منزل کی سیاہی سے پریشاں
پیروں میں مچلتے ہوئے چھالے بھی سیہ ہیں
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
فیضِ حسینؑ چار سو جاری ہے آج تک
باطل پہ خوف دیکھ لو طاری ہے آج تک
دستِ حسینؑ چوم نہ پایا تو رو پڑا
تب سے فرات سینہ فگاری ہے آج تک
ہم کو شہادتوں کا نہیں، ظلم کا ہے غم
بس اس لیے یہ نالہ و زاری ہے آج تک
بارشوں کے بعد آخر
دل میں یہ جو ہلچل تھی
بارشوں سے اس کو بھی
کیا عجیب نسبت تھی
آنکھ تک امڈ آئی
دل میں جب نہ رک پائی
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
نعت میں کیسے کہوں مجھ کو سکھا دے یا رب
جو کہ شایاںﷺ ہوں وہ الفاظ بتا دے یا رب
ایسا ہو شعر کہ جس کا نہ ہو ثانی کوئی
حوضِ کوثر کا جو حقدار بنا دے یا رب
مدحتِ سرورِ کونینﷺ سعادت ہو جائے
مجھ کو حسانؓ کے پہلو میں بٹھا دے یا رب
کر تو رہا ہوں آہ و فغاں اور کیا کروں
دکھلاؤں کیسے سوزِ نہاں اور کیا کروں
دیوار و در کے ساتھ ہی یہ عمر کاٹ دی
دیکھا نہ کوئی سنگِ نشاں اور کیا کروں
تا عمر حسنِ ظن کا رہا ہوں شکار میں
چھوڑا نہیں یہ دشتِ گماں، اور کیا کروں
تلخئ دوراں سے بچ کر مسکرا لیتے ہیں آپ
اس دُریدہ شہر میں آنسو چُرا لیتے ہیں آپ
اس فضائے سوگ میں رنج و الم کے درمیاں
درد سارے بھول کر بھی گیت گا لیتے ہیں آپ
گھپ اندھیرا، دور تک وحشت ہی وحشت ہے جہاں
اس چراغِ زیست کو کیسے جلا لیتے ہیں آپ؟