Showing posts with label کاشف ہاشمی. Show all posts
Showing posts with label کاشف ہاشمی. Show all posts

Tuesday, 8 March 2022

تاریکی نہیں دن کے اجالے بھی سیہ ہیں

 تاریکی نہیں دن کے اجالے بھی سیہ ہیں

مسکان سیہ ہو گئی، نالے بھی سیہ ہیں

گہنائے ہوئے چاند کی کرنیں ہیں سیہ پوش

خورشید تِرے سارے حوالے بھی سیہ ہیں

اس جادۂ منزل کی سیاہی سے پریشاں

پیروں میں مچلتے ہوئے چھالے بھی سیہ ہیں

Thursday, 30 December 2021

فیض حسین چار سو جاری ہے آج تک

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


فیضِ حسینؑ چار سو جاری ہے آج تک

باطل پہ خوف دیکھ لو طاری ہے آج تک

دستِ حسینؑ چوم نہ پایا تو رو پڑا

تب سے فرات سینہ فگاری ہے آج تک

ہم کو شہادتوں کا نہیں، ظلم کا ہے غم

بس اس لیے یہ نالہ و زاری ہے آج تک

Monday, 27 December 2021

بارشوں کے بعد آخر دل میں یہ جو ہلچل تھی

 بارشوں کے بعد آخر

دل میں یہ جو ہلچل تھی

بارشوں سے اس کو بھی

کیا عجیب نسبت تھی

آنکھ تک امڈ آئی

دل میں جب نہ رک پائی

Sunday, 26 December 2021

نعت میں کیسے کہوں مجھ کو سکھا دے یارب

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


نعت میں کیسے کہوں مجھ کو سکھا دے یا رب

جو کہ شایاںﷺ ہوں وہ الفاظ بتا دے یا رب

ایسا ہو شعر کہ جس کا نہ ہو ثانی کوئی

حوضِ کوثر کا جو حقدار بنا دے یا رب

مدحتِ سرورِ کونینﷺ سعادت ہو جائے

مجھ کو حسانؓ کے پہلو میں بٹھا دے یا رب

Saturday, 25 December 2021

کر تو رہا ہوں آہ و فغاں اور کیا کروں

 کر تو رہا ہوں آہ و فغاں اور کیا کروں

دکھلاؤں کیسے سوزِ نہاں اور کیا کروں

دیوار و در کے ساتھ ہی یہ عمر کاٹ دی

دیکھا نہ کوئی سنگِ نشاں اور کیا کروں

تا عمر حسنِ ظن کا رہا ہوں شکار میں

چھوڑا نہیں یہ دشتِ گماں، اور کیا کروں

Friday, 19 November 2021

تلخئ دوراں سے بچ کر مسکرا لیتے ہیں آپ

 تلخئ دوراں سے بچ کر مسکرا لیتے ہیں آپ

اس دُریدہ شہر میں آنسو چُرا لیتے ہیں آپ

اس فضائے سوگ میں رنج و الم کے درمیاں

درد سارے بھول کر بھی گیت گا لیتے ہیں آپ

گھپ اندھیرا، دور تک وحشت ہی وحشت ہے جہاں

اس چراغِ زیست کو کیسے جلا لیتے ہیں آپ؟