تلخئ دوراں سے بچ کر مسکرا لیتے ہیں آپ
اس دُریدہ شہر میں آنسو چُرا لیتے ہیں آپ
اس فضائے سوگ میں رنج و الم کے درمیاں
درد سارے بھول کر بھی گیت گا لیتے ہیں آپ
گھپ اندھیرا، دور تک وحشت ہی وحشت ہے جہاں
اس چراغِ زیست کو کیسے جلا لیتے ہیں آپ؟
دھوپ میں جُھلسے ہوئے پھولوں کو لے کر شاخ سے
تاج کی صورت اِنہیں سر پر سجا لیتے ہیں آپ
پہلے ہی کتنے جلے کاغذ پڑے ہیں جا بجا
یوں جلا کر اپنی غزلیں کیا مزا لیتے ہیں آپ
یہ بھی اچھا ہے کہ غم ہو یا خوشی کا کوئی پَل
بارگاہِ ایزدی میں سر جھکا لیتے ہیں آپ
باتوں باتوں میں عیاں یہ راز بھی ہم پر ہوا
شعر کاشف کے بھی اکثر گنگنا لیتے ہیں آپ
کاشف علی ہاشمی
No comments:
Post a Comment