Friday, 19 November 2021

یہ جو شیشہ ہے دل نما مجھ میں

 یہ جو شیشہ ہے دل نما مجھ میں

ٹوٹ جاتا ہے بارہا مجھ میں

میں تِرے ہجر کی گرفت میں ہوں

ایک صحرا ہے مبتلا مجھ میں

من مہکتا ہے کس کی خوشبو سے

کون رہتا ہے پھول سا مجھ میں

کتنے لمحات کا تھا اک لمحہ

زندگی بھر رکا رہا مجھ میں

اس کی آنکھوں کے بند ٹوٹ گئے

اور سیلاب آ گیا مجھ میں

جب بھی اپنی تلاش کو نکلوں

لوٹ آتا ہے راستہ مجھ میں

اختلافات ذہن و دل میں تھے

اک تصادم سدا رہا مجھ میں


طاہر عظیم

No comments:

Post a Comment