دل ہاتھ ہیں اور دُعا تیری یاد
ہم جیسوں کا حوصلہ تیری یاد
کچھ یوں بھی خموش ہو گیا ہوں
کرتی ہے مُکالمہ تیری یاد
پُوچھو کبھی میرے آنسوؤں سے
کس درجہ ہے خُوشنما تیری یاد
دل ہاتھ ہیں اور دُعا تیری یاد
ہم جیسوں کا حوصلہ تیری یاد
کچھ یوں بھی خموش ہو گیا ہوں
کرتی ہے مُکالمہ تیری یاد
پُوچھو کبھی میرے آنسوؤں سے
کس درجہ ہے خُوشنما تیری یاد
وہ کسی طور بھی میرا نہیں ہو سکتا تھا
کچھ بھی ہو سکتا تھا، ایسا نہیں ہو سکتا تھا
تم یقیناً ابھی آئے تھے ابھی لوٹ گئے
چشمِ احساس کو دھوکہ نہیں ہو سکتا تھا
یہ تو صد شکر کہ تو نے مجھے دیکھا ورنہ
میرا ہونا مِرا ہونا نہیں ہو سکتا تھا
بن مِرا ہمسفر سوچ کر دیکھ کر
ساتھ دے پر مِری رہگزر دیکھ کر
اپنا ماضی بہت یاد آیا مجھے
سبز پتہ کوئی شاخ پر دیکھ کر
میں نے بھی چار دن زندگی کی تو تھی
یاد آیا مجھے ایک گھر دیکھ کر
اشک کا جیسے ستارہ ہونا
میرا رونے سے، تمہارا ہونا
اُس کی آنکھوں سے سمجھ آتا ہے
کسی دریا کا کنارہ ہونا
اب تو لگتا ہے کہ ممکن ہی نہیں
شہر میں دل کا گزارا ہونا
تُو نہیں تو گھنا اندھیرا ہوں
میں تِرے قُرب میں چمکتا ہوں
سانس لیتا ہوں ایک عادت میں
زندگی تو گُزار بیٹھا ہوں
میری منزل یہاں نہیں اے دوست
میں یہاں سانس لینے ٹھہرا ہوں