Showing posts with label کنور امتیاز. Show all posts
Showing posts with label کنور امتیاز. Show all posts

Thursday, 5 March 2026

وہ کسی طور بھی میرا نہیں ہو سکتا تھا

 وہ کسی طور بھی میرا نہیں ہو سکتا تھا

کچھ بھی ہو سکتا تھا، ایسا نہیں ہو سکتا تھا

تم یقیناً ابھی آئے تھے ابھی لوٹ گئے

چشمِ احساس کو دھوکہ نہیں ہو سکتا تھا

یہ تو صد شکر کہ تو نے مجھے دیکھا ورنہ

میرا ہونا مِرا ہونا نہیں ہو سکتا تھا

Thursday, 2 January 2025

بن مرا ہمسفر سوچ کر دیکھ کر

 بن مِرا ہمسفر سوچ کر دیکھ کر

ساتھ دے پر مِری رہگزر دیکھ کر

اپنا ماضی بہت یاد آیا مجھے

سبز پتہ کوئی شاخ پر دیکھ کر

میں نے بھی چار دن زندگی کی تو تھی

یاد آیا مجھے ایک گھر دیکھ کر

Friday, 13 December 2024

اشک کا جیسے ستارہ ہونا

 اشک کا جیسے ستارہ ہونا

میرا رونے سے، تمہارا ہونا

اُس کی آنکھوں سے سمجھ آتا ہے

کسی دریا کا کنارہ ہونا

اب تو لگتا ہے کہ ممکن ہی نہیں

شہر میں دل کا گزارا ہونا

Wednesday, 11 December 2024

تو نہیں تو گھنا اندھیرا ہوں

 تُو نہیں تو گھنا اندھیرا ہوں

میں تِرے قُرب میں چمکتا ہوں

سانس لیتا ہوں ایک عادت میں

زندگی تو گُزار بیٹھا ہوں

میری منزل یہاں نہیں اے دوست

میں یہاں سانس لینے ٹھہرا ہوں