Thursday, 4 June 2026

تجھے جب سے اے شاہد طور دیکھا

 تجھے جب سے اے شاہدِ طُور دیکھا

جدھر آنکھ ڈالی ادھر نُور دیکھا

عجب اہل اُلفت کا دستور دیکھا

وفورِ الم میں بھی مسرور دیکھا

جو پایا تو اب تجھ کو نزدیک پایا

نہ دیکھا تھا جب تک تجھے دور دیکھا

ہوئی عام ایسی تری جلوہ ریزی

یہاں طور دیکھا وہاں طور دیکھا

بصیرت مِری چشم حق بیں کی دیکھو

جدھر رُخ کیا نور ہی نور دیکھا

مِری دانش و آگہی کا برا ہو

تجھے دور سمجھا تجھے دور دیکھا

اے ذائق نہ کیوں ہو یہ اب رشک دلی

بھرا اہل فن سے یہ بنگلور دیکھا


ذائق بنگلوری

محمد ابراہیم

No comments:

Post a Comment