دل کے ماروں کے بھی حالات سمجھ
سمجھ یار، میری بات سمجھ
چہرے بس یوں ہی ہلکان نہیں ہوتے
فسُردگی کی دوست، علامات سمجھ
محبت میں ہیں پوشیدہ وحشتیں آج کل
نئے دور کے ہیں یار فسادات سمجھ
دل کے ماروں کے بھی حالات سمجھ
سمجھ یار، میری بات سمجھ
چہرے بس یوں ہی ہلکان نہیں ہوتے
فسُردگی کی دوست، علامات سمجھ
محبت میں ہیں پوشیدہ وحشتیں آج کل
نئے دور کے ہیں یار فسادات سمجھ
اک معصوم فسانہ ہے وہ چہرہ
مجھے اپنا بنانا ہے وہ چہرہ
میرے شب و سحر کا سکوں ہے وہ
دلبرا میرا خواب سہانا ہے وہ چہرہ
جسے دیکھ کر میں کھِل اٹھتا ہوں
میرا شوق میرا زمانہ ہے وہ چہرہ
دل بغاوت کر جاتا ہے، آرزو نہیں رہتی
منزلیں بِک جائیں تو جستجو نہیں رہتی
کیسے رہتا وہ بھلا عمر بھر میرے پاس
پھولوں میں دیر تلک خوشبو نہیں رہتی
وقت لکھتا ہے سارے حساب ماتھے پر
صورتیں پہلے جیسی ہوبہو نہیں رہتی
خلقت کا، خواہش کا، اور در و بام کا دُکھ
ہم پہ یکساں ہے گزرتی ہوئی شام کا دکھ
میرے چہرے سے رونق یونہی نہیں اتری
حاصل ہے اور کے ساتھ تیرے نام کا دکھ
تُو اب بھی میری محبت پہ شک میں ہے
اتنا کیسے لگتا ہے بھلا فردِ عام کا دکھ
سرد شام کے سائے تم اور میں
ایک کپ چائے تم اور میں
میں پوچھوں عشق میں پاگل کون
تیری آواز آئے تم اور میں
میں تم سے لِپٹ کر کھو جاؤں
تیرے لبوں کی ہائے تم اور میں
میری زندگی کو سنوار دے مجھے پیار دے اور مار دے
میرے ہم نشیں مجھے عشق کر پھر وار دے اور مار دے
میرا اشک اشک فضول ہے، تیرا حرف حرف قبول ہے
میرے حق میں یہی تُو بہتر کر سوئے دار دے اور مار دے
غموں کا روحوں پہ زور ہے یہاں ہر طرف یہی شور ہے
کوئی دل سے بوجھ اتار دے کوئی یار دے اور مار دے
کر کے حالات کو گوارا اکثر
محبتوں میں ہوتا ہے خسارا اکثر
موت کی دہلیز پہ لا کر مجھ کو
زندگی کر دیتی ہے اشارا اکثر
وقت پہلے ہی اسے چھین لیتا ہے
شخص جو ہوتا جان سے پیارا اکثر
میرا اعتبار تم کر سکتی ہو شاہِ من
میں دل کا واقعی بہت حسین لڑکا ہوں
یہ اور بات ہے کہ سبق بھول جاتا ہوں
تمہارے بارے میں لیکن میں ذہین لڑکا ہوں
تم جو چاہو تو پوچھ سکتی ہو کہیں سے بھی
میں یونیورسٹی کا بہت معصوم ترین لڑکا ہوں
میں چاہتا ہوں ہمارے درمیان گفتگو رہے
کچھ نہ بھی رہے میرے پاس مگر تُو رہے
میں چاہتا ہوں میری بیٹی شرارتی ہو بہت
میں چاہتا ہوں اس کی عادت تیرے ہو بہو رہے
میں چاہتا ہوں یہ آنکھیں تجھے دیکھتی رہیں
میں چاہتا ہوں زبان تیرے ذکر سے با وضو رہے
سرِ راہ یوں ہم کو بلائیے نا
نیا روگ جی کو لگائیے نا
دل ہے، بہل بھی سکتا ہے
کوشش کیجیۓ، بہلائیے نا
میں جام صراحی سے نہیں پیتا
سنیۓ، آنکھوں سے پلائیے نا