Showing posts with label شاویز احسن. Show all posts
Showing posts with label شاویز احسن. Show all posts

Monday, 23 October 2023

دل کے ماروں کے بھی حالات سمجھ

 دل کے ماروں کے بھی حالات سمجھ

سمجھ یار، میری بات سمجھ

 چہرے بس یوں ہی ہلکان نہیں ہوتے

فسُردگی کی دوست، علامات سمجھ

محبت میں ہیں پوشیدہ وحشتیں آج کل

نئے دور کے ہیں یار فسادات سمجھ

Saturday, 1 October 2022

اک معصوم فسانہ ہے وہ چہرہ

 اک معصوم فسانہ ہے وہ چہرہ

مجھے اپنا بنانا ہے وہ چہرہ

میرے شب و سحر کا سکوں ہے وہ

دلبرا میرا خواب سہانا ہے وہ چہرہ

جسے دیکھ کر میں کھِل اٹھتا ہوں

میرا شوق میرا زمانہ ہے وہ چہرہ

Monday, 18 April 2022

دل بغاوت کر جاتا ہے آرزو نہیں رہتی

 دل بغاوت کر جاتا ہے، آرزو نہیں رہتی

منزلیں بِک جائیں تو جستجو نہیں رہتی

کیسے رہتا وہ بھلا عمر بھر میرے پاس

پھولوں میں دیر تلک خوشبو نہیں رہتی

وقت لکھتا ہے سارے حساب ماتھے پر

صورتیں پہلے جیسی ہوبہو نہیں رہتی

Saturday, 16 April 2022

خلقت کا خواہش کا اور در و بام کا دکھ

 خلقت کا، خواہش کا، اور در و بام کا دُکھ

ہم پہ یکساں ہے گزرتی ہوئی شام کا دکھ

میرے چہرے سے رونق یونہی نہیں اتری

حاصل ہے اور کے ساتھ تیرے نام کا دکھ

تُو اب بھی میری محبت پہ شک میں ہے

اتنا کیسے لگتا ہے بھلا فردِ عام کا دکھ

Saturday, 2 April 2022

سرد شام کے سائے تم اور میں

 سرد شام کے سائے تم اور میں

ایک کپ چائے تم اور میں

میں پوچھوں عشق میں پاگل کون

تیری آواز آئے تم اور میں

میں تم سے لِپٹ کر کھو جاؤں

تیرے لبوں کی ہائے تم اور میں

Friday, 18 February 2022

میری زندگی کو سنوار دے مجھے پیار دے

 میری زندگی کو سنوار دے مجھے پیار دے اور مار دے

میرے ہم نشیں مجھے عشق کر پھر وار دے اور مار دے

میرا اشک اشک فضول ہے، تیرا حرف حرف قبول ہے

میرے حق میں یہی تُو بہتر کر سوئے دار دے اور مار دے

غموں کا روحوں پہ زور ہے یہاں ہر طرف یہی شور ہے

کوئی دل سے بوجھ اتار دے کوئی یار دے اور مار دے

Tuesday, 15 February 2022

کر کے حالات کو گوارا اکثر

 کر کے حالات کو گوارا اکثر

محبتوں میں ہوتا ہے خسارا اکثر

موت کی دہلیز پہ لا کر مجھ کو

زندگی کر دیتی ہے اشارا اکثر

وقت پہلے ہی اسے چھین لیتا ہے

شخص جو ہوتا جان سے پیارا اکثر

Monday, 15 November 2021

میرا اعتبار تم کر سکتی ہو شاہ من

 میرا اعتبار تم کر سکتی ہو شاہِ من

میں دل کا واقعی بہت حسین لڑکا ہوں

یہ اور بات ہے کہ سبق بھول جاتا ہوں

تمہارے بارے میں لیکن میں ذہین لڑکا ہوں

تم جو چاہو تو پوچھ سکتی ہو کہیں سے بھی

میں یونیورسٹی کا بہت معصوم ترین لڑکا ہوں

Saturday, 13 November 2021

میں چاہتا ہوں ہمارے درمیان گفتگو رہے

 میں چاہتا ہوں ہمارے درمیان گفتگو رہے

کچھ نہ بھی رہے میرے پاس مگر تُو رہے

میں چاہتا ہوں میری بیٹی شرارتی ہو بہت

میں چاہتا ہوں اس کی عادت تیرے ہو بہو رہے

میں چاہتا ہوں یہ آنکھیں تجھے دیکھتی رہیں

میں چاہتا ہوں زبان تیرے ذکر سے با وضو رہے

Saturday, 7 August 2021

سر راہ یوں ہم کو بلائیے نا

 سرِ راہ یوں ہم کو بلائیے نا

نیا روگ جی کو لگائیے نا

دل ہے، بہل بھی سکتا ہے

کوشش کیجیۓ، بہلائیے نا

میں جام صراحی سے نہیں پیتا

سنیۓ، آنکھوں سے پلائیے نا