میری زندگی کو سنوار دے مجھے پیار دے اور مار دے
میرے ہم نشیں مجھے عشق کر پھر وار دے اور مار دے
میرا اشک اشک فضول ہے، تیرا حرف حرف قبول ہے
میرے حق میں یہی تُو بہتر کر سوئے دار دے اور مار دے
غموں کا روحوں پہ زور ہے یہاں ہر طرف یہی شور ہے
کوئی دل سے بوجھ اتار دے کوئی یار دے اور مار دے
ہمیں عمر بھر یہی غم رہا، تیرا غم رہا اور کم رہا
کسی مرتی کونج کو ڈار دے، ذرا پیار دے اور مار دے
میرے ہمسفر میرے ہمنوا میرے ہم نشیں میرے محرما
میری زندگی کو وقار دے، آ قرار دے اور مار دے
بد نصیبی کی لکیر ہوں، تیرے در کا ہی تو فقیر ہوں
اپنے دید کی تُو بہار دے، مجھے ہار دے اور مار دے
کوئی چین ہمارا لے گیا، سارے کا سارا ہی لے گیا
وہی چین میرا اے یار دے، دل کے تار دے اور مار دے
شاویز احسن
No comments:
Post a Comment