اک نیا خواب سجانے کی ضرورت کیا ہے
اور صدمات اٹھانے کی ضرورت کیا ہے
ایک دکھ ہے جو کسی دن مجھے لے ڈوبے گا
خیر یہ تجھ کو بتانے کی ضرورت کیا ہے
شکریہ، آپ نے پہچان لیا ہے، لیکن
دور سے دوڑ کے آنے کی ضرورت کیا ہے
اب گلہ ہے نہ کوئی تجھ سے وضاحت درکار
پھر کوئی بات بڑھانے کی ضرورت کیا ہے
یہ دکھاوے بھی مصیبت کو جنم دیتے ہیں
اس محبت کو جتانے کی ضرورت کیا ہے
میرے کاسے کو ملی ہے جو درِ سبز سے بھیک
یار اب مجھ کو زمانے کی ضرورت کیا ہے
بولنے سے ہی پتا چلتا ہے پھولوں سے ہو
پھر تمہیں نام بتانے کی ضرورت کیا ہے
خواب تو خواب یہاں دل بھی کئی ٹوٹ گئے
اس پہ اب اشک بہانے کی ضرورت کیا ہے
حاکمِ وقت ترے ہوتے ہوئے دشمن کو
شہر میں آگ لگانے کی ضرورت کیا ہے
جس کو آنا ہو وہ آ جاتا ہے عاطف تجھ کو
روز اک دیپ جلانے کی ضرورت کیا ہے
عاطف شبیر
No comments:
Post a Comment