Friday, 18 February 2022

اک نیا خواب سجانے کی ضرورت کیا ہے

 اک نیا خواب سجانے کی ضرورت کیا ہے

اور صدمات اٹھانے کی ضرورت کیا ہے

ایک دکھ ہے جو کسی دن مجھے لے ڈوبے گا

خیر یہ تجھ کو بتانے کی ضرورت کیا ہے

شکریہ، آپ نے پہچان لیا ہے، لیکن

دور سے دوڑ کے آنے کی ضرورت کیا ہے

اب گلہ ہے نہ کوئی تجھ سے وضاحت درکار

پھر کوئی بات بڑھانے کی ضرورت کیا ہے

یہ دکھاوے بھی مصیبت کو جنم دیتے ہیں

اس محبت کو جتانے کی ضرورت کیا ہے

میرے کاسے کو ملی ہے جو درِ سبز سے بھیک

یار اب مجھ کو زمانے کی ضرورت کیا ہے

بولنے سے ہی پتا چلتا ہے پھولوں سے ہو

پھر تمہیں نام بتانے کی ضرورت کیا ہے

خواب تو خواب یہاں دل بھی کئی ٹوٹ گئے

اس پہ اب اشک بہانے کی ضرورت کیا ہے

حاکمِ وقت ترے ہوتے ہوئے دشمن کو

شہر میں آگ لگانے کی ضرورت کیا ہے

جس کو آنا ہو وہ آ جاتا ہے عاطف تجھ کو

روز اک دیپ جلانے کی ضرورت کیا ہے


عاطف شبیر

No comments:

Post a Comment