Friday, 18 February 2022

نہ اشک نکلے نہ لب سے کوئی صدا نکلی

 نہ اشک نکلے نہ لب سے کوئی صدا نکلی

بس ایک آہ مِری بن کے اک دعا نکلی

مجھی پہ اس نے ہر اک بار مدعا ڈالا

کسی نے جرم کیا پر مِری خطا نکلی

تمام کارروائی محض دکھاوہ تھا

کہ فردِ جرم سے پہلے مِری سزا نکلی

گناہ میرا تھا کوئی نہ کوئی جُرم ہی تھا

فروتنی میری سب سے بڑی خطا نکلی

میں بے قصورتھا پھر بھی قصوروار ہوا

تمام خلقِ خدا اس کی ہمنوا نکلی

ستم ہوا یہ بھی ظالم کے دور جاتے ہی

ہر ایک گھرسے مِرے حق میں اک صدا نکلی

وہ زندگی تھی کہ دنیا کہ دلربا کوئی

جسے بھی پیار کیا ہم نے بے وفا نکلی

نجانے بات ہے کیا تجھ سے چوٹ کھا کر بھی

مِرے لبوں سے تِرے واسطے دعا نکلی

ہر ایک چہرے پہ غازہ تھا خوش نمائی کا

خلوص سمجھے جسے ہم وہ اک ادا نکلی

تمہیں نعیم! کہا بھی تھا؛ خامشی رکھو

چلی ہے بات تو دیکھو کہاں پہ جا نکلی


نعیم چشتی

No comments:

Post a Comment