یہ سارے غم بکھر جائیں اگر تم لوٹ آؤ تو
کہ پھر سے ہم سنور جائیں اگر تم لوٹ آؤ تو
یہ بے کیفی، اداسی، بے سکونی اور بے چینی
یہ سب موسم گزر جائیں اگر تم لوٹ آؤ تو
جلن محسوس ہوتی ہے ابھی تک جن میں رہ رہ کر
وہ سارے زخم بھر جائیں اگر تم لوٹ آؤ تو
یہ سارے غم بکھر جائیں اگر تم لوٹ آؤ تو
کہ پھر سے ہم سنور جائیں اگر تم لوٹ آؤ تو
یہ بے کیفی، اداسی، بے سکونی اور بے چینی
یہ سب موسم گزر جائیں اگر تم لوٹ آؤ تو
جلن محسوس ہوتی ہے ابھی تک جن میں رہ رہ کر
وہ سارے زخم بھر جائیں اگر تم لوٹ آؤ تو
یہ ملک عداوت سے کیوں پاک نہیں ہوتا
جُھوٹوں کی قیادت سے کیوں پاک نہیں ہوتا
اربابِ سیاست کے ہیں پاک ارادے تو
دل اُن کا غلاظت سے کیوں پاک نہیں ہوتا
آنسُو بھی نکلتے ہیں آنکھوں سے نِدامت کے
دل میرا نِدامت سے کیوں پاک نہیں ہوتا
پُھول خُوشبو دھنک صبا سی ہے
ان لبوں کی ہنسی دوا سی ہے
کیا کرو گے تم آ کے میرے گھر
کچھ نہیں ہے یہاں، اُداسی ہے
کھو گیا ہے کوئی عزیز از جاں
زندگی کچھ خفا خفا سی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سرور عشق کی منزل محمدﷺ ہیں محمدﷺ ہیں
غموں کے بحر کا ساحل محمدﷺ ہیں محمدﷺ ہیں
جہاں کے ہادئ کامل محمدﷺ ہیں محمدﷺ ہیں
خُدا کے قُرب کی منزل محمدﷺ ہیں محمدﷺ ہیں
🕮 محمدﷺ لائے ہیں قانونِ ربّی صُورتِ قُرآں
زمیں پر مُنصف و عادل محمدﷺ ہیں محمدﷺ ہیں
دوستوں کی جفا کے مارے لوگ
بولتے کیا انا کے مارے لوگ
آپ تو بے وفائی کا ہیں شکار
اور ہم ہیں وفا کے مارے لوگ
بچ نہیں پاتے ماں کے نا فرمان
باپ کی بد دُعا کے مارے لوگ