سب کو وہ خود نما سا لگتا ہے
اور مجھے دل جلا سا لگتا ہے
کتنا شکی مزاج ہے اس کا
کچھ ستایا ہوا سا لگتا ہے
وعدہ کرتا ہے قسمیں کھا کھا کے
وہ تو کچھ بے وفا سا لگتا ہے
سب کو وہ خود نما سا لگتا ہے
اور مجھے دل جلا سا لگتا ہے
کتنا شکی مزاج ہے اس کا
کچھ ستایا ہوا سا لگتا ہے
وعدہ کرتا ہے قسمیں کھا کھا کے
وہ تو کچھ بے وفا سا لگتا ہے
مزاجِ زندگی میں قہر بھی ہے مہربانی بھی
اسی اڑتے ہوئے بادل میں بجلی بھی ہے پانی بھی
جمالِ موت پر قدرت نے پردے ڈال رکھے ہیں
وگر نہ بار ہو جاتا خیالِ زندگانی بھی
سماعت خود تصور کے جھروکے کھول دیتی ہے
بڑی نظارہ پرور ہے صدائے لن ترانی بھی
یہ قدم قدم تأمل یہ تھکے تھکے ارادے
کہو میرِ کارواں سے کہ حدی کی لے بڑھا دے
بخوشی قبول کر لوں مجھے تو اگر سزا دے
تِرے آستاں سے لیکن کوئی غیر کیوں اٹھا دے
سرِ بزم اے مغنّی! مجھے تُو نہ دے سکے گا
وہ سکوت کا ترنّم جو ضمیر کو جگا دے
وہ بڑھا آگے جب اس جانب سے پسپائی ہوئی
میری نادانی مرے دشمن کی دانائی ہوئی
عمر بھر کی شوخ پروازوں سے تنگ آئی ہوئی
تیتری اک پھول پر آ بیٹھی السائی ہوئی
ہنسنے والوں کی ہنسی پر مسکرا دیتے ہیں ہم
اے زہے نامے کہ میری رہ میں رسوائی ہوئی
یہ کس کو جاگ جاگ کے تاروں کی چھاؤں میں
ہم مانگتے ہیں پچھلے پہر کی دعاؤں میں
جنت کو دور دور تو ڈھونڈا گیا, مگر
قدموں تلے نہ ماں کے نہ تیغوں کی چھاؤں میں
خشکی کے رہبروں سے تو یہ بھی نہ ہو سکا
کچھ تو خدا کا نام چلا ناخداؤں میں