Showing posts with label کوثر فاروقی. Show all posts
Showing posts with label کوثر فاروقی. Show all posts

Tuesday, 30 June 2026

سب کو وہ خود نما سا لگتا ہے

 سب کو وہ خود نما سا لگتا ہے

اور مجھے دل جلا سا لگتا ہے

کتنا شکی مزاج ہے اس کا

کچھ ستایا ہوا سا لگتا ہے

وعدہ کرتا ہے قسمیں کھا کھا کے

وہ تو کچھ بے وفا سا لگتا ہے

Thursday, 11 December 2025

مزاج زندگی میں قہر بھی ہے مہربانی بھی

 مزاجِ زندگی میں قہر بھی ہے مہربانی بھی

اسی اڑتے ہوئے بادل میں بجلی بھی ہے پانی بھی

جمالِ موت پر قدرت نے پردے ڈال رکھے ہیں

وگر نہ بار ہو جاتا خیالِ زندگانی بھی

سماعت خود تصور کے جھروکے کھول دیتی ہے

بڑی نظارہ پرور ہے صدائے لن ترانی بھی

Thursday, 31 October 2024

یہ قدم قدم تأمل یہ تھکے تھکے ارادے

 یہ قدم قدم تأمل یہ تھکے تھکے ارادے

کہو میرِ کارواں سے کہ حدی کی لے بڑھا دے

بخوشی قبول کر لوں مجھے تو اگر سزا دے

تِرے آستاں سے لیکن کوئی غیر کیوں اٹھا دے

سرِ بزم اے مغنّی! مجھے تُو نہ دے سکے گا

وہ سکوت کا ترنّم جو ضمیر کو جگا دے

Sunday, 29 September 2024

میری نادانی مرے دشمن کی دانائی ہوئی

 وہ بڑھا آگے جب اس جانب سے پسپائی ہوئی

میری نادانی مرے دشمن کی دانائی ہوئی

عمر بھر کی شوخ پروازوں سے تنگ آئی ہوئی

تیتری اک پھول پر آ بیٹھی السائی ہوئی

ہنسنے والوں کی ہنسی پر مسکرا دیتے ہیں ہم

اے زہے نامے کہ میری رہ میں رسوائی ہوئی

Wednesday, 18 September 2024

یہ کس کو جاگ جاگ کے تاروں کی چھاؤں میں

 یہ کس کو جاگ جاگ کے تاروں کی چھاؤں میں

ہم مانگتے ہیں پچھلے پہر کی دعاؤں میں

جنت کو دور دور تو ڈھونڈا گیا, مگر

قدموں تلے نہ ماں کے نہ تیغوں کی چھاؤں میں

خشکی کے رہبروں سے تو یہ بھی نہ ہو سکا

کچھ تو خدا کا نام چلا ناخداؤں میں