عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
چٹھی شفاعتوں کی مرے نام آئے گی
پیش حضورﷺ نعت بہت کام آئے گی
گجرے درودِ پاکﷺ کے نذر حضور ہیں
خوشبو سی تا ابد سحر و شام آئے گی
پیش نظر ہوں گنبد خضریٰ کی جالیاں
ہریالی قلب و جان میں پھر عام آئے گی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
چٹھی شفاعتوں کی مرے نام آئے گی
پیش حضورﷺ نعت بہت کام آئے گی
گجرے درودِ پاکﷺ کے نذر حضور ہیں
خوشبو سی تا ابد سحر و شام آئے گی
پیش نظر ہوں گنبد خضریٰ کی جالیاں
ہریالی قلب و جان میں پھر عام آئے گی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یارب! مجھے توصیف پیمبرﷺ کی زباں دے
سرشار کرے رُوح کو جو ایسا بیاں دے
دُنیا ہو کہ دیں آپﷺ کے کہنے پہ سجاؤں
حق دونوں کا ہو خوب ادا، دونوں جہاں دے
اُمت کے لیے آپﷺ نے کیا کچھ نہ کیا تھا
غم خوارئ ملت کی مجھے آہ و فغاں دے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دُھول سے جو اَٹ گیا تھا، گُم ہُوا تھا راستا
آپﷺ کے دم سے ہوا ہر دم رواں صبح و مسا
زرد موسم نے بھی پہنا سبز موسم کا لباس
رُوح پرور ہو گئی مکّے مدینے کی ہوا
بے اماں افراد کو بھی مل گئی ان کی اماں
ہو گئے رشک ثریا، وہ جو تھے تحت الثریٰ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میرا ایماں ہو سلامت، زہے قسمت میری
تا اَبَد زندہ رہے آپﷺ سے نسبت میری
دل و جاں جھوم اٹھیں آپ کا رستہ دیکھیں
پر جبریلؑ کی پرواز ہو رفعت میری
بگڑی بن جائے اگر آپ کے قدموں میں رہوں
فلک آسا مجھے رکھے گی اطاعت میری
کمالِ دستِ ہنر سے اسے سہارا جائے
بشر کو بحرِ حوادث میں جب اتارا جائے
وہ جس سے حسنِ تخیل میں ضوفشانی ہے
کبھی نہ دور مری آنکھ سے ستارا جائے
میں ناخدا کی بد اندیشیوں سے ڈرتا ہوں
نہ وسوسوں میں کہیں ہاتھ سے کنارا جائے