Tuesday, 8 December 2020

کمال دست ہنر سے اسے سہارا جائے

 کمالِ دستِ ہنر سے اسے سہارا جائے

بشر کو بحرِ حوادث میں جب اتارا جائے

وہ جس سے حسنِ تخیل میں ضوفشانی ہے

کبھی نہ دور مری آنکھ سے ستارا جائے

میں ناخدا کی بد اندیشیوں سے ڈرتا ہوں

نہ وسوسوں میں کہیں ہاتھ سے کنارا جائے

کبھی تو وادیٔ دل میں بھی روشنی پھوٹے

کوئی تو منظرِ خوش آنکھ سے گزارا جائے

یہ بے نیازیٔ سود و زیاں غنیمت ہے

کہیں تو اپنے مقدر سے بھی خسارا جائے

ریاض مزرعِ ہستی کو پھر ضرورت ہے

جگر کے خون سے پھر سے اسے سنوارا جائے


ریاض زیدی

No comments:

Post a Comment