Tuesday, 8 December 2020

حسرت سے اپنے دل کو جلایا نہ کیجیے

 حسرت سے اپنے دل کو جلایا نہ کیجیے

آنسو💧 فضول اپنے بہایا نہ کیجیے

ظالم کا یوں بھی ساتھ نبھایا نہ کیجیے

مظلوم کا مذاق اڑایا نہ کیجیے

مظلوم کی ندا سے تو ہلتا ہے عرش بھی

مظلوم کی ندا کو دبایا نہ کیجیے

ظلمت کا ہے وہ مارا نہ کہنا مزِید کچھ

مظلوم کو کبھی بھی ستایا نہ کیجیے

چاہت کے بول بولنا بھی تو ثواب ہے

نفرت کی آگ ہر سُو لگایا نہ کیجیے

کچھ یار ڈال دیتے ہیں زخموں پہ بھی نمک

یوں زخم ہر کسی کو دکھایا نہ کیجیے

محفل میں شور کر کے دبانا نہ حق کبھی

یوں سر پہ آسمان اٹھایا نہ کیجیے


اکرام الحق

No comments:

Post a Comment