کیسی پھر چھان بِین کی صورت
جب گماں ہو یقین کی صورت
🪔ہے ہمیشہ سے زندگی کا دِیا
آندھیوں میں مکین کی صورت
کارگاہِ جہان میں ہم لوگ
ہو گئے ہیں مشین کی صورت
سانپ بھی آ گئے ہیں سکتے میں
دیکھ کر آستین کی صورت
دوربیں سے نظر نہیں آئی
مجھ کو کمی کمین کی صورت
آسماں سے نظر ملا کر آج
دیکھتا ہوں زمین کی صورت
حسن دیکھوں تو یاد آتی ہے
عشق میں عین شین کی صورت
اب تو یہ بھی ندیم یاد نہیں
کیسی تھی اس حسین کی صورت
ندیم ملک
No comments:
Post a Comment