حُسن کعبے کا ہے کوئی نہ صنم خانے کا
صرف اک حُسنِ نظر ہے تِرے دیوانے کا
عشق رُسوا بھی ہے مجبور بھی دیوانہ بھی
اور ابھی خیر سے آغاز ہے افسانے کا
کار فرما تِرے جلوؤں کی کشش ہے ورنہ
شمع سے دُور کا رشتہ نہیں پروانے کا
حُسن کعبے کا ہے کوئی نہ صنم خانے کا
صرف اک حُسنِ نظر ہے تِرے دیوانے کا
عشق رُسوا بھی ہے مجبور بھی دیوانہ بھی
اور ابھی خیر سے آغاز ہے افسانے کا
کار فرما تِرے جلوؤں کی کشش ہے ورنہ
شمع سے دُور کا رشتہ نہیں پروانے کا
نگاہِ شوق کے زیرِ اثر ہونا ہی پڑتا ہے
وہ چاہیں یا نہ چاہیں جلوہ گَر ہونا ہی پڑتا ہے
بہ ہر عالم محبت کو سپر ہونا ہی پڑتا ہے
جدھر اٹھتی ہیں وہ نظریں اُدھر ہونا ہی پڑتا ہے
جواب ان کی عتاب آلودہ نظروں کا کہاں ممکن
نظامِ دہرکو زیر و زبر ہونا ہی پڑتا ہے
غم دے کے غمگسار ہوئے بھی تو کیا ہوئے
تڑپا کے بے قرار ہوئے بھی تو کیا ہوئے
کرنا تھا داغ بن کے کسی دل میں روشنی
شمع سر مزار ہوئے بھی تو کیا ہوئے
ہونا تھا آپ اپنے چمن میں شگوفہ کار
شرمندۂ بہار ہوئے بھی تو کیا ہوئے
قبول کی نہ زمانے کی پیروی میں نے
نکالی ایک نئی راہِ زندگی میں نے
بڑھا کے حُسنِ صداقت سے دوستی میں نے
خرید لی ہے زمانے سے دُشمنی میں نے
کمالِ جوشِ جنوں جب گُزر گیا حد سے
اُڑائی چاک گریباں کی خُود ہنسی میں نے