Showing posts with label ادیب مالیگانوی. Show all posts
Showing posts with label ادیب مالیگانوی. Show all posts

Friday, 12 December 2025

حسن کعبے کا ہے کوئی نہ صنم خانے کا

 حُسن کعبے کا ہے کوئی نہ صنم خانے کا

صرف اک حُسنِ نظر ہے تِرے دیوانے کا

عشق رُسوا بھی ہے مجبور بھی دیوانہ بھی

اور ابھی خیر سے آغاز ہے افسانے کا

کار فرما تِرے جلوؤں کی کشش ہے ورنہ

شمع سے دُور کا رشتہ نہیں پروانے کا

Friday, 20 December 2024

نگاہ شوق کے زیرِ اثر ہونا ہی پڑتا ہے

 نگاہِ شوق کے زیرِ اثر ہونا ہی پڑتا ہے

وہ چاہیں یا نہ چاہیں جلوہ گَر ہونا ہی پڑتا ہے

بہ ہر عالم محبت کو سپر ہونا ہی پڑتا ہے

جدھر اٹھتی ہیں وہ نظریں اُدھر ہونا ہی پڑتا ہے

جواب ان کی عتاب آلودہ نظروں کا کہاں ممکن

نظامِ دہرکو زیر و زبر ہونا ہی پڑتا ہے

Sunday, 15 December 2024

غم دے کے غمگسار ہوئے بھی تو کیا ہوئے

 غم دے کے غمگسار ہوئے بھی تو کیا ہوئے

تڑپا کے بے قرار ہوئے بھی تو کیا ہوئے

کرنا تھا داغ بن کے کسی دل میں روشنی

شمع سر مزار ہوئے بھی تو کیا ہوئے

ہونا تھا آپ اپنے چمن میں شگوفہ کار

شرمندۂ بہار ہوئے بھی تو کیا ہوئے

Tuesday, 10 December 2024

قبول کی نہ زمانے کی پیروی میں نے

 قبول کی نہ زمانے کی پیروی میں نے

نکالی ایک نئی راہِ زندگی میں نے

بڑھا کے حُسنِ صداقت سے دوستی میں نے

خرید لی ہے زمانے سے دُشمنی میں نے

کمالِ جوشِ جنوں جب گُزر گیا حد سے

اُڑائی چاک گریباں کی خُود ہنسی میں نے