Showing posts with label اسرار دانش. Show all posts
Showing posts with label اسرار دانش. Show all posts

Tuesday, 5 December 2023

دسمبر پانچ کا دن تھا اچانک یہ سوال آیا

 شہادت بابری مسجد


دسمبر پانچ کا دن تھا اچانک یہ سوال آیا

کہ میں بھی نظم لکھوں بابری پر یہ خیال آیا

اچانک دل یہ کہہ اٹھا کہ اس سے فائدہ کیا ہے

فقط منہ زور ہو جانے کا پیارے حوصلہ کیا ہے

سبب کیا تھا جو اب تک بھی ہمیں حاصل نہ ہو پائی

کہ اپنی ملکیت میں بابری شامل نہ ہو پائی

Tuesday, 21 November 2023

کاش اس کو بھی بچھڑنے پہ رنج و ملال ہو

 کاش اس کو بھی بچھڑنے پہ رنج و ملال ہو

جیسا ہمارا حال ہوا،۔ اس کا حال ہو

میری دعا ہے ان کا بلندی بنے نصیب

اور دوست چاہتے ہیں کہ میرا زوال ہو

خواہش نہیں کے ساتھ ہو لوگوں کا اژدہام

بس ایک ہو جو دوستی میں بے مثال ہو

Saturday, 18 November 2023

یہ تیز گام جو طوفاں دکھائی دیتا ہے

 یہ تیز گام جو طوفاں دکھائی دیتا ہے

مجھے تباہی کا امکاں دکھائی دیتا ہے

کسی کو عشق یہ آساں دکھائی دیتا ہے

ہمیں تو جان کا نقصاں دکھائی دیتا ہے

جہاں سے درد ملا در وہ چھٹ نہیں سکتا

وہیں پہ درد کا درماں دکھائی دیتا ہے

Tuesday, 7 September 2021

کوئی دھنی کوئی بے زر ہے کیا کیا جائے

 کوئی دھنی، کوئی بے زر ہے کیا کیا جائے

کہ اپنا اپنا مقدر ہے،۔ کیا کیا جائے

وہ جس کے واسطے خود کو مٹا دیا ہم نے

وہ بے وفا ہے، ستمگر ہے کیا کیا جائے

کتابیں کاپیاں ہونی تھیں ان کے ہاتھوں میں

پر ان کے ہاتھ میں پتھر ہے کیا کیا جائے

Sunday, 5 September 2021

میں آئینہ جیسا ہوں وہ پتھر کی طرح ہے

 میں آئینہ جیسا ہوں وہ پتھر کی طرح ہے

اور اس پہ رویہ بھی ستمگر کی طرح ہے

قطرہ جسے کہہ کر نظر انداز کیا تھا

اس شخص کی گہرائی سمندر کی طرح ہے

میں جس کو سمجھتا رہا پھولوں کی طرح نرم

وہ زندگی کانٹوں بھرے بستر کی طرح ہے