Sunday, 5 September 2021

میں آئینہ جیسا ہوں وہ پتھر کی طرح ہے

 میں آئینہ جیسا ہوں وہ پتھر کی طرح ہے

اور اس پہ رویہ بھی ستمگر کی طرح ہے

قطرہ جسے کہہ کر نظر انداز کیا تھا

اس شخص کی گہرائی سمندر کی طرح ہے

میں جس کو سمجھتا رہا پھولوں کی طرح نرم

وہ زندگی کانٹوں بھرے بستر کی طرح ہے

جس دل میں نہ موجود ہو قرآن کا حصہ

وہ دل کسی ویران سے کھنڈر کی طرح ہے

اک وار کیا ناز سے، دل کر لیا مفتوح

اے دوست تِری چشم سکندر کی طرح ہے

پہلو میں خوشی کے ہے برابر لگا غم بھی

یہ زیست بدلتے ہوئے منظر کی طرح ہے

باہر سے ہے آراستہ پیراستہ دانش

اندر سے مگر ٹوٹے ہوئے گھر کی طرح ہے


اسرار دانش

No comments:

Post a Comment