میں آئینہ جیسا ہوں وہ پتھر کی طرح ہے
اور اس پہ رویہ بھی ستمگر کی طرح ہے
قطرہ جسے کہہ کر نظر انداز کیا تھا
اس شخص کی گہرائی سمندر کی طرح ہے
میں جس کو سمجھتا رہا پھولوں کی طرح نرم
وہ زندگی کانٹوں بھرے بستر کی طرح ہے
جس دل میں نہ موجود ہو قرآن کا حصہ
وہ دل کسی ویران سے کھنڈر کی طرح ہے
اک وار کیا ناز سے، دل کر لیا مفتوح
اے دوست تِری چشم سکندر کی طرح ہے
پہلو میں خوشی کے ہے برابر لگا غم بھی
یہ زیست بدلتے ہوئے منظر کی طرح ہے
باہر سے ہے آراستہ پیراستہ دانش
اندر سے مگر ٹوٹے ہوئے گھر کی طرح ہے
اسرار دانش
No comments:
Post a Comment