Sunday, 5 September 2021

ہوتے ہیں ختم اب یہ لمحات زندگی کے

ہوتے ہیں ختم اب یہ لمحات زندگی کے 

مہمان ہیں جہاں میں ہم اور دو گھڑی کے 

اے بے نیاز میرا سجدہ قبول کر لے 

میں جانتا نہیں ہوں آداب بندگی کے

سانسوں کے تار تم نے غفلت سے توڑ ڈالے

نغمے سنو گے اب کیوں کر ساز زندگی کے

اب خیریت نہیں ہے تنظیم دو جہاں کی

تیور بتا رہے ہیں اس بت کی خود سری کے

ہنسنا ہے چار دن کا رونا ہے عمر بھر کا

دستور میں نرالے دنیائے عاشقی کے

عمر عزیز کا جب انجام کھل چکا ہے

رونے سے فائدہ کیا بدلے میں اب ہنسی کے

ہم نے رہ وفا میں لٹ کر قدم قدم پر

چھینے ہیں رہزنوں سے اطوار رہزنی کے

جب تک نہ آزمائیں مشکل ہے یہ بتانا

دنیا میں کون رفعت قابل ہے دوستی کے


رفعت سیٹھی

No comments:

Post a Comment