Showing posts with label رتن پنڈوری. Show all posts
Showing posts with label رتن پنڈوری. Show all posts

Monday, 5 September 2022

آیا ہے نام لب پہ رسول کریم کا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


آیا ہے نام لب پہ رسول کریمﷺ کا

جلوہ تڑپ اٹھا ہے ریاضِ نعیم کا

بحر عدن میں لاکھوں ہیں لولوئے شاہوار

کچھ رنگ و روپ اور ہے دُر یتیمؐ کا

اے اہل بزم! جانبِ بطحا چلا ہوں میں

پیغام لے کے آیا ہے جھونکا نسیم کا

Thursday, 20 August 2020

لطف خودی یہی ہے کہ شان بقا رہوں

لطفِ خودی یہی ہے کہ شانِ بقا رہوں 
انسان کے لباس میں بن کر خدا رہوں 
جب مجھ کو میرے سامنے آنے سے عار ہے 
کس حوصلے پہ تجھ کو خدا مانتا رہوں؟
پردے میں اک جھلک سی دکھانے سے فائدہ 
جلوے کو عام کر کہ تجھے دیکھتا رہوں 

پہنچے نہ جو مراد کو وہ مدعا ہوں میں

پہنچے نہ جو مراد کو وہ مدعا ہوں میں
ناکامیوں کی راہ میں خود کھو گیا ہوں میں
کہتے ہیں جس کو حسن اسی کا ہے نام عشق
دیکھو مجھے بغور کہ شانِ خدا ہوں میں
پردہ اٹھا کہ ہوش کی دنیا بدل گئی
حیران ہوں کہ سامنے کیا دیکھتا ہوں میں

سکون پایا ہے بے کسی نے حدود غم سے نکل گیا ہوں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

سکون پایا ہے بے کسی نے حدودِ غم سے نکل گیا ہوں
خیالِ حضرتؐ جب آ گیا ہے تو گرتے گرتے سنبھل گیا ہوں
کبھی میں صبحِ ازل گیا ہوں، کبھی میں شامِ ابد گیا ہوں
تلاشِ جاناں میں کتنی منزل خدا ہی جانے نکل گیا ہوں
حرم کی تپتی ہوئی زمیں پر جگر بچھانے کی آرزو تھی
بہارِِ خلدِ بریں ملی تو بچا کے دامن نکل گیا ہوں

Monday, 10 October 2016

خدایا حسن والوں پر عنایت یہ بھی کی ہوتی

خدایا حُسن والوں پر عنایت یہ بھی کی ہوتی
دہن شیریں تو بخشا تھا زباں شیریں بھی دی ہوتی
برابر کے تماشے میں غضب کی دل کشی ہوتی
بھڑکتے ہیں اِدھر شعلے، اُدھر بھی کچھ لگی ہوتی
سزا تو عقش نے پائی محبت کی عدالت میں
تقاضا یہ تھا پائے حُسن میں بیڑی پڑی ہوتی

بہار آئی کھلے گلہائے رنگیں لالہ زاروں میں

بہار آئی، کھِلے گلہائے رنگیں لالہ زاروں میں
قیامت کی تڑپ ہے آج تیرے بے قراروں میں
ہُوا جاتا ہے فاش اب راز کاوش ہائے پنہانی
مجھے کھینچے لیے جاتی ہے وحشت خارزاروں میں
کہاں تک اے دلِ مضطر! یہ شغلِ گِریۂ پیہم
جگر پارے بہے جاتے ہیں خونِیں آبشاروں میں

ہم پہنچ تو گئے ہیں در یار تک

ہم پہنچ تو گئے ہیں درِ یار تک
پھر بھی حاصل نہیں اس کا دیدار تک
شرم جرأت کی رہ جائے اب اے خدا
ہاتھ پہنچا مِرا دامنِ یار تک
ان کا خلوت کدہ اتنا ہی دور ہے
فاصلہ جس قدر گل سے ہے خار تک

Wednesday, 3 August 2016

موجوں نے ہاتھ دے کے ابھارا کبھی کبھی

موجوں نے ہاتھ دے کے ابھارا کبھی کبھی
پایا ہے ڈوب کر بھی کنارا کبھی کبھی
کرتی ہے تیغِ یار اشارا کبھی کبھی
ہوتا ہے امتحان ہمارا کبھی کبھی
چمکا ہے عشق کا بھی ستارا کبھی کبھی
مانگا ہے حسن نے بھی سہارا کبھی کبھی

جدا وہ ہوتے تو ہم ان کی جستجو کرتے

جدا وہ ہوتے تو ہم ان کی جستجو کرتے
الگ نہیں ہیں تو پھر کس کی آرزو کرتے
ملا نہ ہم کو کبھی عرضِ حال کا موقع
زباں نہ چلتی تو آنکھوں سے گفتگو کرتے
اگر یہ جانتے ہم بھی انہیں کی صورت ہیں
کمالِ شوق سے اپنی ہی آرزو کرتے

Saturday, 26 December 2015

غم کی بستی عجیب بستی ہے

غم کی بستی عجیب بستی ہے
موت مہنگی ہے جان سستی ہے
میں اسے کیوں ادھر ادھر ڈھونڈوں
میری ہستی ہی اس کی ہستی ہے
عالم‌ شوق ہے عجب عالم
آسماں پر زمین بستی ہے

خواب ہی میں رخ پر نور دکھائے کوئی

خواب ہی میں رخ پر نُور دکھائے کوئی
غم میں راحت کا بھی پہلو نظر آئے کوئی
سامنے اس کے دل و جان و جگر میں رکھ دوں
ہاں مگر ہاتھ میں خنجر تو اٹھائے کوئی
اپنے ہی گھر میں ملا ڈھونڈ رہے تھے جس کو
اس کے پانے کے لیے خود ہی کو پائے کوئی