ہم پہنچ تو گئے ہیں درِ یار تک
پھر بھی حاصل نہیں اس کا دیدار تک
شرم جرأت کی رہ جائے اب اے خدا
ہاتھ پہنچا مِرا دامنِ یار تک
ان کا خلوت کدہ اتنا ہی دور ہے
عشق کو چاہیے حسن کو جیت لے
حسن کا ناز ہے عشق کی ہار تک
دلبری آپ کی ہم کو تسلیم ہے
لیکن اس میں نہیں بوئے ایثار تک
اک نہ اک حد معین ہے ہر چیز کی
ہے سکوں کی طلب دل کے آزار تک
وہ تمنا تمنا نہیں اے رتنؔ
ختم ہو جائے جو محض دیدار تک
پنڈت رتن پنڈوری
No comments:
Post a Comment