Showing posts with label امیر حسن نورانی. Show all posts
Showing posts with label امیر حسن نورانی. Show all posts

Tuesday, 24 February 2026

میں اس کے پاس ایسے وقت میں پہنچا

 میں اس کے پاس ایسے وقت میں پہنچا

جبکہ وہ چلمن کے پاس جامۂ خواب کے علاوہ 

سونے کے لیے (سب) کپڑے نکال چکی تھی

(جب میں اس کے پاس پہنچا) تو وہ بولی، خدا کی قسم تیرے لیے اب کوئی عذر نہیں

اور میں نہیں خیال کرتی کہ تجھ سے یہ (عشق کی) گمراہی زائل ہو جائے گی

میں اس کو ایسے حال میں لے کر نکلا کہ وہ چل رہی تھی

Monday, 10 November 2025

اس محبوبہ کی محبت میں تمہاری حالت

 اس محبوبہ کی محبت میں تمہاری حالت اسی طرح ہو گئی ہے

جیسی اس سے پہلے ام حویرث اور اس کی پڑوسن 

ام رباب کے عشق میں ہو چکی ہے

یہ اس وقت کی بات ہے جب تم مقام ماسل میں تھے

یعنی جس طرح پہلے ان دو عورتوں کی محبت میں مبتلا ہو کر 

مصیبتیں اٹھا چکے ہو

Tuesday, 25 June 2024

نہ تمہارے پاس کچھ ہے نہ میرے پاس اس میں ہم اور تم یکساں ہیں

 میری قوم کے پاس پانی کے لیے بہت سی مشکیں ہیں

جن کے دوال (یعنی تسمے) 

میں نے اپنے فرمانبردار اور بوجھ اُٹھانے والے کاندھوں پر اٹھائے ہیں

یعنی دوران سفر اپنے ساتھیوں کی خدمت بھی کرتا رہا ہوں

یعنی مجھے پانی سے بھری ہوئی مشکیں کاندھوں سے لٹکا کر ان کے لیے لاتا تھا

میں نے اپنے سفر کے دوران بہت سی وادیوں کو طے کیا ہے

Tuesday, 22 June 2021

اے میرے دوستو اس جگہ تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر جاؤ

اے میرے دوستو! اس جگہ تھوڑی دیر کے لئے ٹھہر جاؤ

یہ میری محبوبہ کا اُجڑا ہوا وِیران مکان ہے

آؤ ہم سب اس جگہ منزلِ محبوب پر ٹھہر کرآنسو بہا لیں

وہ مکان جو ریت کے ایک تِرچھے ٹیلے پر

مقام دخول اور حومل کے درمیان نظر آ رہا ہے

جس کے ایک طرف مقام توضح اور دوسری جانب مقراۃ واقع ہیں