Tuesday, 24 February 2026

میں اس کے پاس ایسے وقت میں پہنچا

 میں اس کے پاس ایسے وقت میں پہنچا

جبکہ وہ چلمن کے پاس جامۂ خواب کے علاوہ 

سونے کے لیے (سب) کپڑے نکال چکی تھی

(جب میں اس کے پاس پہنچا) تو وہ بولی، خدا کی قسم تیرے لیے اب کوئی عذر نہیں

اور میں نہیں خیال کرتی کہ تجھ سے یہ (عشق کی) گمراہی زائل ہو جائے گی

میں اس کو ایسے حال میں لے کر نکلا کہ وہ چل رہی تھی

اور ہم دونوں کے نشاناتِ (قدم) پر ہمارے پیچھے منقش چادر کے دامن کو کھینچ رہی تھی

پس جب ہم قوم کی آبادی سے نکل گئے

اور ایک وسیع ریگستان کے درمیان جو ٹیلوں والا تھا، پہنچے۔

تو میں نے اس کی دو زلفوں کے ذریعہ (اس کو اپنی طرف) جھکایا

چنانچہ وہ باریک کمر، گداز پنڈلی والی (معشوقہ) میری طرف جھک آئی۔

وہ معشوقہ نازک کمر، خوبرو، سُتے ہوئے بدن کی ہے

اس کا سینہ آئینے کی طرح درخشاں ہے۔

(ووہ محبوبہ) اس موتی کی طرح ہے جس میں زردی اور سفیدی ملی ہوئی ہو

جس کو (ایسے) صاف پانی سے سیراب کیا ہو جس پر لوگ نہ اترے ہوں۔

وہ اعراض کرتی ہے اور ایک دراز رخسار ظاہر کرتی ہے

اور مقام وجرہ کے بچہ والے وحشی (ہرن) کی آنکھ کے ذریعہ بچتی ہے۔

اور ایک ایسی گردن (کو ظاہر کرتی ہے) جو گردنِ آہو کی مثل ہے 

جبکہ وہ اس کو بلند کرے تو لمبی (بے ڈول) اور بے زیور نہیں ہے۔

اور ایسے بال (دکھاتی ہے) جو کمر کو زینت دیتے ہیں 

سخت سیاہ ہیں اتنے گھنے ہیں جیسے پھلدار کھجور کا خوشہ۔

اس (محبوبہ) کی مینڈھیاں اوپر کو چڑھی ہوئی ہیں

جُوڑا گندھے ہوئے اور چھوٹے بالوں میں غائب ہو جاتا ہے۔

اور ایسی نازک کمر جو مہارِ (شتر) کی طرح ہے

اور پنڈلی جو نرم اور تربانسی کی پوری کی طرح ہے (دکھاتی ہے)۔

وہ (سوتے سوتے) دن چڑھا دیتی ہے، دراں حالیکہ مشک کے ٹکڑے اس کے بستر پر پڑے ہوتے ہیں

چاشت کے وقت تک خوب سونے والی ہے اور اس نے

(کام دھندے کے لیے) معمولی کپڑے پہننے کے بعد پٹکا نہیں باندھا۔

وہ ایسی نرم و نازک (انگلیوں) سے (چیزیں) پکڑتی ہے

گویا کہ وہ (انگلیاں) )مقامِ) ظبی کے کینچوے یا اسحل (درخت) کی مسواکیں ہیں۔

(حسین چہرہ کے ذریعہ) شام کے وقت تاریکی کو روشن کر دیتی ہے

گویا کہ وہ تارک الدنیا راہب کا شام کا چراغ ہے۔

اس جیسی محبوبہ کی طرف بردبار (انسان بھی) عشق کی وجہ سے نظر جما کر دیکھتا ہے

جب کہ وہ قمیص پہننے والی (عورتوں) اور کُرتی پہننے والی (بچیوں) کے درمیان کھڑی ہو۔

لوگوں کی نوخیز عمر کی (عاشقانہ) گمراہیاں زائل ہو گئیں

(مگر اے محبوبہ) میرا دل تیری محبت سے جدا ہونے والا نہیں۔


شاعری: امراءالقیس/عمروالقیس الکندی

اردو ترجمہ: امیر حسن نورانی

No comments:

Post a Comment