ٹھاٹھ باٹھ آن بان مذہب کی
چل رہی ہے دکان مذہب کی
انتقام اس طرح بنامِ جہاد
تیر اپنے، کمان مذہب کی
سارے جِن عاملوں کے قبضے میں
جن کے قبضے میں جان مذہب کی
کیا بگاڑے گا کوئی اس کا جسے
ہو میسّر مچان مذہب کی
بھینٹ چڑھتا ہے کم نسب، کمزور
ایسے بڑھتی ہے شان مذہب کی
سعید دوشی
No comments:
Post a Comment