Wednesday, 25 February 2026

اگر حضور کی چوکھٹ ہی روشنائی نہ دے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اگر حضور کی چوکھٹ ہی روشنائی نہ دے

جہاں میں کوئی بھی شے دوستو دکھائی نہ دے

خدایا چھین لے ایسی مری سماعت کو

کہ کوئی نعت پڑھے اور مجھے سنائی نہ دے

درِ رسولﷺ سے ہو دور تو دعا ہے مری

کسی کو ایسی خدا پاک پارسائی نہ دے

مرے نصیب میں الفت نبیﷺ کی ایسی ہو

سوائے آپ کے کوئی مجھے سجھائی نہ دے

میں اس مکان میں ہرگز نہیں رہوں گا رضا

جہاں سے گنبدِ خضریٰ مجھے دکھائی نہ دے


محمد رضا نقشبندی

No comments:

Post a Comment