Thursday, 19 February 2026

ٹھیک حالات کیوں نہیں کرتے

ٹھیک حالات کیوں نہیں کرتے

تُم کوئی بات کیوں نہیں کرتے

میں گر اتنا ہی یاد آتا ہوں

پھر ملاقات کیوں نہیں کرتے

دِن کو مِلتے ہو، میرے نام مگر

تُم کوئی رات کیوں نہیں کرتے

ہم سے بِچھڑو گے جی نہ پاؤ گے

ایسے خدشات کیوں نہیں کرتے

قِصے ماضی کے خوب، تُم لیکن

اب فتُوحات کیوں نہیں کرتے

بعض اوقات ہی محبت کیوں

بعض اوقات کیوں نہیں کرتے

کیا رکھا ہے غموں کو سہنے میں

تم مناجات کیوں نہیں کرتے


سالم احسان

No comments:

Post a Comment