Saturday, 14 February 2026

افیمی ظلم کو تقدیر کہہ کر سو رہا ہے

 افیمی سو رہا ہے


افیمی ظلم کو تقدیر کہہ کر سو رہا ہے

سو ہرن کو شیر کھا جائے

عقابوں کے جھپٹتے غول سہمے میمنے کو نوچتے جائیں

کوئی بکری کسی چیتے کو 

تھوڑی گھاس کے بدلے سبھی اعضا کھلا بیٹھے

ہزاروں مکھیوں کی سخت محنت سے بنا 

سارے کا سارا شہد کوئی ریچھ لے جائے

کسی بندر کے پاگل پن میں پھینکے پتھروں سے 

اڑنے والی کوئی چنگاری بھلے جنگل جلا ڈالے

ہزاروں گھاس خوروں نے کئی دن سے گلوں کو خشک رکھا ہو

ندی میں خون کی بو ہو

ندی میں خون بھر جائے

ندی کو آگ لگ جائے

افیمی کی بلا سے

یہ افیم ایسا نشہ ہے جس کا عادی 

نیند کو ہی مسئلوں کا حل سمجھتا ہے

سہانے خواب آتے ہیں

افیمی سبز لفظوں سے بُنی لوئی کے نیچے سویا رہتا ہے

افیمی اینٹ، بجری، ریت، سیمنٹ سے بنے 

جنگل کی غاروں میں مزے سے سویا رہتا ہے

سو خوابیدہ افیمی کو تو چاہے مار بھی ڈالو

اسے کیا فرق پڑنا ہے

مگر اس نیند سے اس کو جگانے کی حماقت کوئی مت کرنا

افیمی کاٹ کھائے گا

افیمی آگ میں جلتے ہوئے معصوم لوگوں کو 

مزے سے صبر کی تلقین کر کے سو رہا ہے

افیمی سو رہا ہے


شعیب کیانی

No comments:

Post a Comment