زعفرانی کلام
لوگ ہم سے روز کہتے ہیں یہ عادت چھوڑئیے
یہ تجارت ہے خلافِ آدمیت، چھوڑئیے
اس سے بد تر لت نہیں ہے کوئی یہ لت چھوڑئیے
روز اخباروں میں چھپتا ہے کہ رشوت چھوڑئیے
کس کو سمجھائیں، اسے کھو دیں تو پھر پائیں گے کیا
ہم اگر رشوت نہیں لیں گے تو پھر کھائیں گے کیا
قید بھی کر دیں تو ہم کو راہ پر لائیں گے کیا
’’یہ جنونِ عشق کے انداز چھٹ جائیں گے کیا‘‘
ملک بھر کو قید کر دے کس کے بس کی بات ہے
خیر سے سب ہیں ، کوئی دو چار دس کی بات ہے
علت رشوت کو اس دنیا سے رخصت کیجیے
ورنہ رشوت کی دھڑلے سے اجازت دیجیے
جوش ملیح آبادی
No comments:
Post a Comment