Friday, 6 February 2026

کہیں پہ صدق کا چہرہ کہیں صفا کا رنگ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کہیں پہ صدق کا چہرہ کہیں صفا کا رنگ

رواں ہے سورۂ والذکر میں ثنا کا رنگ

نہ ابتداء کی علامت نہ انتہا کا رنگ

خدا کے رنگوں میں پنہاں رہا انا کا رنگ

عجیب شہر ہے سر سبز ہے ہوا کا رنگ

گلی گلی سے عیاں حُسنِ نقشِ پا کا رنگ

عدوئے جاں بھی تھے حسنِ سلوک کے قائل

عجیب رنگ تھا تبلیغِ مصطفیٰﷺ کا رنگ

قدم قدم پہ ہے تاثیرِ پرورش روشن

رسولِ پاکﷺ میں ہے خلقِ آمنہؑ کا رنگ

عیاں ہے قلبِ محمدﷺ سے الحدید کا عزم

وقارِ عہد میں آیاتِ مائدہ کا رنگ

ہر ایک امن پہ ہے آشکار نطقِ حبیبﷺ

شریکِ صلح ہے صلحِ حدیبیہ کا رنگ

نزولِ دہر سے الواقعہ کا صدقہ تک

ہمارے رزق میں شامل ہے ہل اتٰی کا رنگ

زمانہ سمجھا ہے اسریٰ تِری مسافت سے

ستارہ خیز ہے آقاﷺ کے نقشِ پا کا رنگ

سجود مانگ رہے تھے قبولیت کے شرف

کھلا درودﷺ سے تسبیحِ فاطمہؑ کا رنگ

ہزاروں آئے محمدﷺ کے جانثار مگر

کسی بھی نعت میں آیا نہ کربلا کا رنگ

کھُلے گا دیکھنا اکبر بہ صورتِ سجدہ

درونِ گنبدِ خضریٰ مِری دعا کا رنگ


حسنین اکبر

No comments:

Post a Comment