عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کہیں پہ صدق کا چہرہ کہیں صفا کا رنگ
رواں ہے سورۂ والذکر میں ثنا کا رنگ
نہ ابتداء کی علامت نہ انتہا کا رنگ
خدا کے رنگوں میں پنہاں رہا انا کا رنگ
عجیب شہر ہے سر سبز ہے ہوا کا رنگ
گلی گلی سے عیاں حُسنِ نقشِ پا کا رنگ
عدوئے جاں بھی تھے حسنِ سلوک کے قائل
عجیب رنگ تھا تبلیغِ مصطفیٰﷺ کا رنگ
قدم قدم پہ ہے تاثیرِ پرورش روشن
رسولِ پاکﷺ میں ہے خلقِ آمنہؑ کا رنگ
عیاں ہے قلبِ محمدﷺ سے الحدید کا عزم
وقارِ عہد میں آیاتِ مائدہ کا رنگ
ہر ایک امن پہ ہے آشکار نطقِ حبیبﷺ
شریکِ صلح ہے صلحِ حدیبیہ کا رنگ
نزولِ دہر سے الواقعہ کا صدقہ تک
ہمارے رزق میں شامل ہے ہل اتٰی کا رنگ
زمانہ سمجھا ہے اسریٰ تِری مسافت سے
ستارہ خیز ہے آقاﷺ کے نقشِ پا کا رنگ
سجود مانگ رہے تھے قبولیت کے شرف
کھلا درودﷺ سے تسبیحِ فاطمہؑ کا رنگ
ہزاروں آئے محمدﷺ کے جانثار مگر
کسی بھی نعت میں آیا نہ کربلا کا رنگ
کھُلے گا دیکھنا اکبر بہ صورتِ سجدہ
درونِ گنبدِ خضریٰ مِری دعا کا رنگ
حسنین اکبر
No comments:
Post a Comment