عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بے سبب لرزے میں کب شہرِ مدینہ آیا
زخم ایسا تھا کہ برچھی کو پسینہ آیا
کیا پشیمانی سہی پانی پہ قبضہ کر کے
ہاتھ میں تیرے نہ ساحل نہ سفینہ آیا
کیوں نہیں سینے پہ وہ سرخ نشاں کھینچتا ہے
جس کی قسمت میں محرم کا مہینہ آیا
ہائے کیوں شکلِ پیمبر کو فراموش کیا
ہائے! ٹاپوں تلے قرآن کا سینہ آیا
کب تمہیں سینۂ شبیرؑ میسر ہوا ہے
کب تمہیں چین ہے زنداں میں سکینہ آیا
اک طرف نوحہ کناں چادریں نیزوں پہ بلند
اک طرف خیمے جلانے کو کمینہ آیا
خود بخود پاؤں اٹھے ہیں میرے منزل کی طرف
جونہی ارشاد مودت کا قرینہ آیا
ارشاد نیازی
No comments:
Post a Comment