Tuesday, 3 February 2026

یہ پلتا جا رہا ہے اعتماد سینے میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یہ پلتا جا رہا ہے اعتماد سینے میں

پہنچ ہی جاؤں گا میں خیر سے مدینے میں

کبھی تو سانس معطر مدینے میں ہو گی

کبھی تو جان پڑے گی ہمارے جینے میں

وہ دیں گے گنبد خضرا کا عکس آنکھوں کو

وہ بدلیں گے مرے کنکر کبھی نگینے میں

مدینے سے جو جو ملتا ہے ایک لمحے میں

کہیں سے ملتا نہیں سال اور مہینے میں

نگاِہ لطف لے آئی اسے کنارے پر

وگرنہ تو بڑے ہی چھید تھے سفینے میں

ابھی تلک وہ مہک بانٹتا ہے پھولوں میں

مدامی فیض ہے سرکار کے پسینے میں

سناتا ہی رہے عمران آپ کی مدحت

چراغ جلتے رہیں زندگی کے زینے میں


عمران شریف

No comments:

Post a Comment