عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہ پلتا جا رہا ہے اعتماد سینے میں
پہنچ ہی جاؤں گا میں خیر سے مدینے میں
کبھی تو سانس معطر مدینے میں ہو گی
کبھی تو جان پڑے گی ہمارے جینے میں
وہ دیں گے گنبد خضرا کا عکس آنکھوں کو
وہ بدلیں گے مرے کنکر کبھی نگینے میں
مدینے سے جو جو ملتا ہے ایک لمحے میں
کہیں سے ملتا نہیں سال اور مہینے میں
نگاِہ لطف لے آئی اسے کنارے پر
وگرنہ تو بڑے ہی چھید تھے سفینے میں
ابھی تلک وہ مہک بانٹتا ہے پھولوں میں
مدامی فیض ہے سرکار کے پسینے میں
سناتا ہی رہے عمران آپ کی مدحت
چراغ جلتے رہیں زندگی کے زینے میں
عمران شریف
No comments:
Post a Comment