Sunday, 1 February 2026

جس کو سمجھ رہے تھے مرے یار وہ نہیں

 جس کو سمجھ رہے تھے مِرے یار، وہ نہیں

ہے اور کوئی راہ کی دیوار، وہ نہیں

ہے آنکھ جس کی طالبِ دیدار، وہ نہیں

اچھا تو ہے مگر مجھے درکار وہ نہیں

یہ دل ہوا ہے جس کا گرفتار، وہ نہیں

سب سے حسیں وہی سہی دلدار وہ نہیں

میرے عدو کی قوتِ بازو کو کیا ہوا

لڑ تو رہا ہے شدتِ یلغار وہ نہیں

یہ ہے بصارتوں کی مِری بے بضاعتی

میرے لیے جمالِ رخِ یار وہ نہیں

کس کی نظر لگی مِرے آبائی شہر کو

بستی وہی ہے کوچہ و بازار وہ نہیں

کیا اُس کی کج ادائی نے ثاقب کِیا کمال

اب سوزِ جاں وہی ہے پر اشعار وہ نہیں


حسین ثاقب

No comments:

Post a Comment