Showing posts with label نرمل ندیم. Show all posts
Showing posts with label نرمل ندیم. Show all posts

Monday, 16 March 2026

جان سے جاتے رہے جان سے جانا نہ گیا

 جان سے جاتے رہے جان سے جانا نہ گیا

دل گیا عشق میں پر دل کا لگانا نہ گیا

موت کے بعد بھی اک بوجھ اٹھا رکھا ہے

سر تو جانا ہی تھا پر حیف کہ شانا نہ گیا

آج بھی آ کے وہ آنکھوں میں چہک اٹھتا ہے

گلشن دل سے کبھی تیرا زمانہ نہ گیا

Monday, 14 July 2025

نبھایا عشق نے رشتہ جو پیاس پانی کا

 نبھایا عشق نے رشتہ جو پیاس پانی کا

اڑا کے لے گیا ہوش و حواس پانی کا

کٹے شجر کے سسکتے ہوئے سے پتوں پر

دکھائی دیتا ہے چہرہ اداس پانی کا

شریف لوگوں کی آنکھوں میں آگ رکھ دے گی

پہن کے نکلے گی جب وہ لباس پانی کا

Monday, 26 May 2025

بزم خوباں سے اٹھے دار و رسن تک پہنچے

 بزمِ خُوباں سے اُٹھے دار و رسن تک پہنچے

آپ ہی آپ مِرے پاؤں گگن تک پہنچے

ایک میں ہی تھا جو صیّاد کی جھولی میں گرا

اُڑ گئے سارے پرندے جو چمن تک پہنچے

صرف دل ہی کو جلانا تو کوئی بات نہیں

عشق اک آگ اگر ہے تو بدن تک پہنچے

Wednesday, 21 April 2021

وفا کی راہ میں دشواریاں بہت سی ہیں

وفا کی راہ میں دشواریاں بہت سی ہیں

مگر جنوں کی بھی تیاریاں بہت سی ہیں

جلال اپنی محبت کا سب سے اونچا ہے

بدن میں ایسے تو بیماریاں بہت سی ہیں

ہمارے پاس فقط دل کا درد ہے لیکن

تمہارے پاس تو عیاریاں بہت سی ہیں