اُکتا کے کُوئے یار سے عشاق چل پڑے
کارِ وفا کے دیکھیے مُشتاق چل پڑے
میں اُٹھ گیا تو درد کی محفل اُجڑ گئی
میرے ہی ساتھ عشق کے مشّاق چل پڑے
نقشِ قدم پڑے ہیں یہ قُدرت کے جا بجا
دُنیائے دل سے اُٹھ کے بد اخلاق چل پڑے
اُکتا کے کُوئے یار سے عشاق چل پڑے
کارِ وفا کے دیکھیے مُشتاق چل پڑے
میں اُٹھ گیا تو درد کی محفل اُجڑ گئی
میرے ہی ساتھ عشق کے مشّاق چل پڑے
نقشِ قدم پڑے ہیں یہ قُدرت کے جا بجا
دُنیائے دل سے اُٹھ کے بد اخلاق چل پڑے
جان سے جاتے رہے جان سے جانا نہ گیا
دل گیا عشق میں پر دل کا لگانا نہ گیا
موت کے بعد بھی اک بوجھ اٹھا رکھا ہے
سر تو جانا ہی تھا پر حیف کہ شانا نہ گیا
آج بھی آ کے وہ آنکھوں میں چہک اٹھتا ہے
گلشن دل سے کبھی تیرا زمانہ نہ گیا
نبھایا عشق نے رشتہ جو پیاس پانی کا
اڑا کے لے گیا ہوش و حواس پانی کا
کٹے شجر کے سسکتے ہوئے سے پتوں پر
دکھائی دیتا ہے چہرہ اداس پانی کا
شریف لوگوں کی آنکھوں میں آگ رکھ دے گی
پہن کے نکلے گی جب وہ لباس پانی کا
بزمِ خُوباں سے اُٹھے دار و رسن تک پہنچے
آپ ہی آپ مِرے پاؤں گگن تک پہنچے
ایک میں ہی تھا جو صیّاد کی جھولی میں گرا
اُڑ گئے سارے پرندے جو چمن تک پہنچے
صرف دل ہی کو جلانا تو کوئی بات نہیں
عشق اک آگ اگر ہے تو بدن تک پہنچے
وفا کی راہ میں دشواریاں بہت سی ہیں
مگر جنوں کی بھی تیاریاں بہت سی ہیں
جلال اپنی محبت کا سب سے اونچا ہے
بدن میں ایسے تو بیماریاں بہت سی ہیں
ہمارے پاس فقط دل کا درد ہے لیکن
تمہارے پاس تو عیاریاں بہت سی ہیں