Wednesday, 21 April 2021

وفا کی راہ میں دشواریاں بہت سی ہیں

وفا کی راہ میں دشواریاں بہت سی ہیں

مگر جنوں کی بھی تیاریاں بہت سی ہیں

جلال اپنی محبت کا سب سے اونچا ہے

بدن میں ایسے تو بیماریاں بہت سی ہیں

ہمارے پاس فقط دل کا درد ہے لیکن

تمہارے پاس تو عیاریاں بہت سی ہیں

ہر ایک شخص کی فکریں جدا جدا ٹھہریں

جہان عام میں خودداریاں بہت سی ہیں

وفا کی ساری مثالیں گنا تو دوں لیکن

وطن میں اپنے بھی غداریاں بہت سی ہیں

دلوں میں پلتے ہوئے خواب جانتے ہی نہیں

تباہ کرنے کو بے کاریاں بہت سی ہیں

کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ یار سن تو سہی

ادا میں حُسن کی مکاریاں بہت سی ہیں

سجی ہے بزم محبت یہ جان کس کے لیے

یہاں تو لوگوں میں بیزاریاں بہت سی ہیں

ندیم! کیوں تُو تہِ اضطراب ڈُوب گیا

دلوں کے کھیل میں بھی پاریاں بہت سی ہیں


نرمل ندیم

No comments:

Post a Comment