Wednesday, 21 April 2021

ایسی ہی زمیں بنا رہا تھا

 ایسی ہی زمیں بنا رہا تھا

پر اور کہیں بنا رہا تھا

اس بُت نے جہاں بنایا تھا بُت

میں برسوں وہیں بنا رہا تھا

میں رات بنا رہا تھا لیکن

تاریک نہیں بنا رہا تھا

سورج تو بنا رہا تھا رُخسار

مہتاب جبیں بنا رہا تھا

ان آنکھوں کو چُومتا ہوا میں

کچھ اور حسیں بنا رہا تھا

افسوس وہ بن نہیں سکا جو

میں اپنے تئیں بنا رہا تھا

مارا گیا بدگمانیاں میں

بے چارہ یقیں بنا رہا تھا


احسان اصغر

No comments:

Post a Comment