خاموش رہو
کچھ زخم ہم سے بات نہیں کرتے
زخم ایک دوسرے سے تو بات کر سکتے ہیں ناں
اب یہ مرہم سے اُکتا گئے ہیں
کچھ گھاؤ بھرنے کے لیے نہیں ہوتے
کچھ زخم ہرے اچھے ہیں
خاموشی کا پردہ جو بدستور ہمارے درمیان حائل ہے
ہمارے زخموں کے لیے بہتر ہے
کچھ وقت دو انہیں
چپ کے شور میں ان کی آواز کو دبنے مت دو
خاموش رہو
زعیم مشتاق
No comments:
Post a Comment