Wednesday, 21 April 2021

خاموش رہو کچھ زخم ہم سے بات نہیں کرتے

 خاموش رہو 


کچھ زخم ہم سے بات نہیں کرتے

زخم ایک دوسرے سے تو بات کر سکتے ہیں ناں

اب یہ مرہم سے اُکتا گئے ہیں

کچھ گھاؤ بھرنے کے لیے نہیں ہوتے

کچھ زخم ہرے اچھے ہیں

خاموشی کا پردہ جو بدستور ہمارے درمیان حائل ہے

ہمارے زخموں کے لیے بہتر ہے

کچھ وقت دو انہیں

چپ کے شور میں ان کی آواز کو دبنے مت دو

خاموش رہو


زعیم مشتاق

No comments:

Post a Comment